تازہ ترین

ماگام ہندوارہ میں عدم شناخت جنگجو جاں بحق

ترال میں گرینیڈ حملوں کے بعد آبادی کو تختہ مشق بنایا گیا

10 جولائی 2018 (00 : 01 AM)   
(      )

اشرف چراغ +سید اعجاز
 
کپوارہ+ترال//سرحدی ضلع کپوارہ کے خان پورہ ماگام ہندوارہ میں فوج اور جنگجوئو ں کے درمیان جھڑپ میں فوج نے ایک جنگجو کوجا ں بحق کر نے کا دعویٰ کیا ہے۔ادھر ترال میں فورسز پر گرینیڈ حملوں کے بعد آبادی کو تختہ مشق بنایا گیا جس پر وہاں پر تشدد احتجاج ہوا۔اتوار شام دیر گئے خان پورہ ماگام ہندوارہ کے نزدیک 47راشٹریہ رائفلز سے وابستہ ایک گشتی پارٹی پر جنگلی علاقہ میں بیٹھے جنگجوئو ں کے گھات لگا کر حملہ کیا جس کے بعد طرفین کے درمیان گولیو ں کا تبادلہ شروع ہوا ۔ فوج اور جنگجوئو ں کے درمیان کافی دیر تک فائرنگ کا سلسلہ جاری رہا  تاہم رات کی تاریکی کی وجہ سے فوج نے جنگجوئو ں کے خلاف اپنی کارروائی معطل کی۔ پیر کی علی الصبح دو بارہ جنگجو مخالف کارروائی شروع کی گئی ۔ طرفین کے درمیان بھاری فائرنگ کا سلسلہ دوبارہ شروع ہوا جس میں فوج نے ایک عدم شنا خت جنگجو جا ں بحق کر نے کا دعویٰ کیااور اس کی تحویل سے ایک رائفل بر آ مد کی گئی ۔ فوج کو خدشہ ہے کہ اس علاقہ میں مزید کئی جنگجو چھپے بیٹھے ہیں ۔علاقہ میں فوج کی مزید کمک طلب کر کے وسیع حصہ کو محاصرے میں لیا گیا ہے اور تلاشی کارروائی جاری ہے جبکہ جھڑپ کی وجہ سے ماگام ہندوارہ شاہراہ پر گا ڑیو ں کی نقل و حمل متا ثر رہی ۔ترال اور بٹہ گنڈمیں سوموار کی صبح نا معلوم جنگجوئوں نے دو الگ الگ مقامات پر گرینیڈ داغے تاہم دونوں واقعات میں اگر چہ جانی نقصان نہیں ہوا تاہم فورسز نے بٹہ گنڈ گائوں میںمقامی آبادی راہ گیروں اور سکولی بچوںکی مار پیٹ کرنے کے علاوہ درجنوں مکانات اور گاڑیوں کی توڑ پھوڑ کی ، جس کے ساتھ ہی علاقے میں جھڑپوں اور شلنگ کا سلسلہ شروع ہوا ۔قصبہ میں نا معلوم جنگجوئوں نے سوموار کی صبح ساڑھے نو بجے کے قریب سی آر پی ایف180بٹالین کے ہیڈ کوارٹرواقع ترال بالاپر ہتھ گولہ پھینکا جو زور دار دھماکہ کے ساتھ پھٹ گیا جس کی وجہ سے آس پاس کے علاقے دہل اٹھے اور افرا تفری کا ماحول پیدا ہوا ۔ حملے کے فوراً بعد فورسز نے کیمپ کے آس پاس تلاشی کارروائیوں کا سلسلہ جاری رکھاجہاں سے کسی کی گرفتاری عمل میں نہیں لائی گئی۔ سوموار کے روز بعد دوپہرساڑھے تین بجے ترال کے بٹہ گنڈ علاقے میں جنگجوئوں نے سی آر پی ایف کی ایک گشتی پارٹی پر ہتھ گولہ پھینکا جو زوردار دھماکے کے ساتھ پھٹ گیا۔اس کے بعد مشتعل اہلکار بستی کی آبادی پر ٹوٹ پڑے اور راہ گیروں جن میں کچھ تعلیمی ادروں کے طلباء ، بھی شامل ہیں، کی شدید مارپیٹ کی گئی۔ اسکے علاوہ مکانوں، گاڑیوں اوراملاک کی بڑے پیمانے پر توڑ پھوڑ کی گئی۔ مقامی نوجوانوں نے مارپیٹ اور توڑ پھوڑ کرنے کے خلاف فورسز پر پتھرائو کیا جس کے ساتھ ہی علاقے میں جھڑپوں کا سلسلہ شروع ہوا ۔فورسز نے آنسو گیس کے درجنوں گولے داغے جس کی وجہ سے علاقے میں زبردست افرا تفری پھیل گئی۔ جنگجوئوں نے سوموار رات دیر گئے ینگونی آری پل ترال میں قائم ایس او جی کیمپ پر رائفل گرینیڈ داغا، جو زور دار دھماکے سے پھٹ گیا۔ اس کے بعد طرفین کے مابین گولیوں کا تبادلہ بھی ہوا تاہم کوئی نقصان نہیں ہوا۔ دریں اثنا ء ترال کے ستورہ علاقے میں اتوار کی شام مقامی فوجی کیمپ کی ایک پارٹی علاقے سے گزر رہی تھی جس  دوران کسی نا معلوم نوجوان نے ان پر پتھر پھینکا جس کے بعد مشتعل فوجی اہلکار گائوں میں داخل ہوئے اور انہوں نے پہلے کچھ نوجوانوں کی مارپیٹ کی جس کے بعد مکانوں اور علاقے میں کھڑی گاڑیوں کی توڑ پھوڑ کی ۔
 

شمالی کمان کے سربراہ وادی میں

بلال فرقانی
 
سرینگر//شمالی کمان کے فوجی سربراہ لیفٹنٹ جنرل رنبیر سنگھ نے سرینگر پہنچ کروادی کی مجموعی صورتحال کا جائزہ لیا۔ انہوں نے بادامی باغ فوجی ہیڈ کوارٹر میں سیکورٹی کا جائزہ لیا۔ذرائع کے مطابق میٹنگ میں ریاستی پولیس کے سربراہ ڈاکٹر ایس پی وید کے علاوہ 15کور کے کمانڈر لیفٹنٹ جنرل اے کے بھٹ،آئی جی کشمیر ایس پی پانی اور فورسز و دیگر سیکورٹی ایجنسیوں کے اعلیٰ افسران موجود تھے۔ میٹنگ کے دوران سیکورٹی و خفیہ ایجنسیوں کے افسران نے لیفٹنٹ جنرل رنبیر سنگھ کو وادی کی تازہ ترین صورتحال اور امرناتھ یاترا کے حوالے سے اٹھائے گئے سیکورٹی اقدامات سے متعلق جانکاری فراہم کی۔ذرائع نے بتایا کہ شمالی کمان کے کمانڈر نے جامع آپریشنل،انتظامی اور لاجسٹک صورتحال کا بھی جائزہ لیا۔دفاعی ترجمان لیفٹنٹ کرنل راجیش کالیہ کے مطابق’’ میٹنگ میں عسکریت پسندوں کی ہلاکتوں،سماجی میڈیا  اور نوجوانوں کی علیحدگی پسندانہ رجحان اور شہری ہلاکتوں کو کم از کم کرنے کا بھی جائزہ لیا گیا‘‘۔ذرائع نے بتایا کہ فوجی کمانڈر نے فوج کو ہدایت دی کہ عسکریت پسندوں کے خلاف آپریشنوں کے دوران شہریوں کے تحفظ کو یقینی بنایا جانا چاہے اور معیاری عملیاتی طریقہ کار پر سختی کے ساتھ عمل کیا جائے۔دفاعی ذرائع کا کہنا ہے کہ لیفٹنٹ جنرل رنبیر سنگھ نے شہری ہلاکتوں پر بھی قدغن لگانے پر زور دیا۔