تازہ ترین

اسمبلی اورلوک سبھاانتخابات کاانعقادایک ساتھ کیسے ممکن؟

پروفیسربھیم سنگھ کاالیکشن کمیشن سے سوال

13 جولائی 2018 (00 : 01 AM)   
(      )

 جموں//نیشنل پنتھرس پارٹی کے سرپرست اعلی ، اسٹیٹ لیگل ایڈ کمیٹی کے ایکزیکیوٹیوچیرمین اور سپریم کورٹ کے سینئر وکیل پروفیسر بھیم سنگھ نے ہندستانی الیکشن کمیشن کے قانونی مشیروں کی دانائی پر حیرت کا اظہار کیا ہے جو گزشتہ دو دنوں سے نئی دہلی میں تقریباًً تمام تسلیم شدہ سیاسی جماعتوں اور ریاستی سیاسی پارٹیوں کے نمائندوں کے ساتھ لوک سبھا اور اسمبلی انتخابات ایک ساتھ کرانے پر طویل بات چیت کررہے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ کئی سینئر سیاسی ہستیاں اور سیاسی مفکر عام انتخابات اور اسمبلی انتخابات ایک ساتھ کرانے کی حمایت کررہے ہیں۔جموںوکشمیر نیشنل پنتھرس پارٹی نے اس معاملہ پر اپنی کوئی رائے نہیں دی ہے کیونکہ اسے میٹنگ میں شرکت کے لئے مدعو ہی نہیں کیا گیا۔مجھے لگتا ہے غالباً ایسا جان بوجھ کر کیا گیاتاکہ وہ جموں وکشمیر پنتھرس پارٹی کے لوگ اسمبلی اراکین کی مدت کار کے تعلق سے سوال نہیں اٹھا سکیں۔انہوں نے کہاکہ جب شیخ محمد عبداللہ کی سربراہی والی نیشنل کانفرنس کانگریس کی حمایت سے اقتدار میں آئی تھی تو اس نے ریاستی اسمبلی کی مدت کار کو پانچ برس سے بڑھاکر چھ برس کرنے کو منظوری دی تھی اور 1977سے جموں وکشمیر اسمبلی کی مدت کا رچھ برس ہے۔جموں وکشمیر نیشنل پنتھرس پارٹی نے اس کی مخالفت کی تھی جو قانونی طورپر مختلف، غیرآئینی اور جس سے قومی مریا دہ کی خلاف ورزی ہوتی ہے۔پروفیسر بھیم سنگھ نے ہندستانی الیکشن کمیشن ، قانو ن و انصاف کی وزارت اور لاکمیشن آف انڈیا سے سوال کیا کہ کیا لوک سبھا اوراسمبلی انتخابات ایک ساتھ کرانا ممکن ہے۔ کیا  وزارت قانون و انصاف جموں وکشمیر کے رائے دہندگان ہندستانی شہریوں کے ساتھ امتیاز کرے گی کیونکہ جموں وکشمیر اسمبلی کی مدت کا ر چھ برس ہے جبکہ لوک سبھا انتخابات پانچ برس میں ہوتے ہیں۔