تازہ ترین

غربت

افسانہ

9 اپریل 2017 (00 : 02 AM)   
(      )

ڈاکٹر شمس کمال انجم
 آج اتوار کا دن تھا۔ تعطیل تھی۔ انور حسین کی بیوی صبح سے اپنے خانساماں کے ساتھ کچن میں مصروف تھی۔ کُکر سیٹیاں دے رہا تھا۔ طرح طرح کی مرغن غذاؤں کی خوشبو گھر میں رقص کررہی تھی۔ انور حسین بھی اپنے دفتر کے ضروری کام لے کر صبح سے اپنے ڈرائینگ روم میں بیٹھے کام کررہے تھے۔کھانے کا وقت ہوا تو بیوی نے ڈائننگ ہال کے خوب صورت اور قیمتی ڈائننگ ٹیبل پر انواع اقسام کے کھانوں کو اس طرح سجادیا تھا جیسے واقعی آج کوئی خاص دن ہے۔ کوئی تقریب ہے یا عید ہے۔ انور حسین کوکھانے کے لیے آواز دی۔ وہ بھی بھوکے تھے۔ ڈائننگ ٹیبل پر بیٹھے اور خوشی خوشی کھانا کھانے لگے۔ کھانا کھاتے کھاتے اچانک رک گئے۔ان کی کہنیاں ٹیبل سے لگی ہوئی تھیں۔ ہاتھ میں لقمہ تھا جو منہ سے دوچار سنٹی میٹر کے فاصلے پر اس طرح رک گیا تھا جیسے کہ وہ منہ کے اندر داخل ہونا نہیں چاہتا۔انور حسین کسی سوچ میں غرق ہوگئے تھے۔
کیا ہوا؟ کیوں رک گئے؟ کھانا کھائیے۔ بیوی نے انور حسین کے ہاتھوں میں معلق لقمے کو دیکھ کر کہا۔
انور حسین کو بیوی کی بات سنائی نہیں دی اور وہ بت کی طرح لقمہ لیے رہے۔ بیوی نے ہاتھ سے ان کے ہاتھ کو ہلایا تو جیسے انور حسین کسی گہری سوچ یا خواب سے بیدار ہوگئے ہوں۔ 
کیا ہوا؟ بیوی نے پھر پوچھا اور کہا کھانا ٹھیک نہیں ہے؟
نہیں یہ بات نہیں ہے۔ انور حسین نے کہا۔
تو پھر آپ کھانا کیوں نہیں کھارہے ہیں۔ نمک تیز ہے۔ اچھا نہیں ہے۔آخر کیا ہوا۔کھانے میں کوئی خرابی ہے؟جب بیوی نے زیادہ اصرار کیا تو انور حسین بولے:
ایسا کرو یہ سارا کھانا غربیوں میں تقسیم کردو۔
کیوں؟بیوی نے پوچھا اور ناراض ہوتے ہوئے کہا۔ آج صبح سے ہم نے آپ کے لیے یہ غذائیں تیار کی ہیں۔ مگر آپ ہیں کہ بہکی بہکی باتیں کررہے ہیں۔
میں نے کہا یہ سارا کھانا آج غریبوں میں تقسیم کردو۔انور حسین نے کہا۔
انور حسین کی بیوی بہت ناراض ہور ہی تھی۔ اس کا موڈ بالکل خراب ہوگیا تھا۔ مگر اس نے لفظ’ غریبوں‘ پر توجہ کی تو کچھ کچھ سمجھ میں آگیا۔ اس نے کہا ٹھیک ہے ۔اس نے خادم کو بلایا اور کہا لے جاؤ شہر کے غریبوں میں یہ سارا کھانا تقسیم کردو۔ مگر ہوا کیا۔ انور حسین کی طرف رخ کرکے وہ بولی۔
آج مجھے اپنی ماں کی یاد آگئی۔ انور حسین نے کہا۔
یہ تو اچھی بات ہے مگر کھانا نہ کھانے سے اس کا کیا تعلق ہے؟ بیوی نے پوچھا۔
انور حسین کہنے لگے: میں نے تمہیں کبھی بتایا تو نہیں مگر آج بتاتا ہوں۔ میں نے اپنی ماں کو کبھی کھانا کھاتے ہوئے نہیں دیکھا۔ صرف ایک ہی مرتبہ انہیں کھانا کھاتے ہوئے دیکھا تھا۔ مجھے اچھی طرح یاد ہے۔ انہوں نے اس دن گھر کا سارا کام ختم کیا۔ کپڑے دھوئے۔ غسل کیا۔ ظہر کی نماز پڑھی اور اس کے بعد کھانے کے لیے بیٹھیں تو میں نے دیکھا کہ وہ باسی روٹی سوکھے پیاز کے ساتھ اس طرح کھا رہی تھیں جیسے بریانی کھارہی ہوں۔وہ ہمیشہ گھر کے کام کاج اور ہمیں پڑھانے لکھانے میں مصروف رہتی تھیں۔ ہم غریب ضرور تھے لیکن ہمیں اپنی غربت کا کبھی احساس نہیں ہونے دیا۔ ہماری ماں خود نہ کھاکر سب سے پہلے ہمیں کھانا کھلاتی تھیں۔ ہمارے ابو صرف مکتب تک پڑھے تھے اورتین پہیوں والا رکشہ چلاکر روزی روٹی کا سامان کرتے تھے۔میں بارہ تیرہ سال کا ہوچکا تھا۔ آٹھویں یا نویں درجے میں پڑھتا تھا۔ایک دن  ابونے کھانا کھاتے ہوئے اماں سے کہا:
میں چاہتاہوں کہ انور حسین کو خوب پڑھا ؤں لکھاؤں اور اپنی جہالت کی ساری کسر پوری کروں۔ اسی لیے میں چاہتا ہوں کہ اسے شہر بھیج دیا جائے پڑھنے کے لیے۔ 
مگر اتنا پیسہ کہا ں سے آئے گا۔اماں نے کہا۔
میں محنت کروں گا۔ خوب کام کروں گا اورایک ایک پیسہ جوڑ جوڑ کر اسے پڑھاؤں گا۔میں چاہتا ہوں کہ یہ بڑا آدمی بنے۔ابو نے کہا۔
مجھے وہ دن اچھی طرح یاد ہے، جب پہلی مرتبہ میں نے اپنا گھر چھوڑاتھا۔ میری عمراٹھارہ برس تھی۔ ہمارے گھر سے چار میل کے فاصلے پر بس ملتی تھی۔ اس دن میں اور میرا بڑا بھائی ابو کے رکشے پر بیٹھے اور بس اسٹیشن پہنچے۔ روڈویز کی گاڑی پر میں اپنے بڑے بھائی کے ساتھ سوار ہوا۔ شہر کے کالج تک انہوں نے مجھے چھوڑ ا اور واپس آگئے۔ اپنے داخلے کی ساری کاروائی میں نے خود کروائی تھی۔انور حسین نے کہا۔بی اے میں میرا داخلہ ہوا تھا۔
اور فیس کے پیسے کہاں سے آئے تھے۔ بیوی نے پوچھا۔!
فیس کے پیسے؟ مت پوچھووہ پیسے کیسے آئے تھے۔ مجھے یاد ہے جب شہر میں تعلیم کے لیے میرے جانے کافیصلہ ہوگیا تو ابو نے کہا میں پورے ایک ہفتے رکشہ چلاؤں گا اور جتنا پیسہ اکٹھا ہوگا سب انور حسین کو دے دوں گا۔پھر ابو نے یوں کیا کہ وہ علی الصباح نکل جاتے ،ننگی سڑک پر سخت گرمی میں رکشہ دوڑاتے اور مغرب کے بعد گھر واپس آتے۔ پورے ایک ہفتے کی مسلسل محنت ومشقت کے بعدابو نے کل تین سو روپے اکٹھا کیے اور لاکر مجھے دیتے ہوئے کہا لے بیٹے اتنا ہی ہے میرے پاس۔ اللہ اس میں برکت دے گا۔
میں اپنے ابو کو رکشہ چلاتے دیکھا کرتا تھا۔ مجھے اس وقت احساس نہیں تھا کہ یہ رکشہ چلانے کا کیا مطلب ہے مگر جب میں آج سوچتا ہوں تو میری روح لرز اٹھتی ہے۔ میں سوچتا ہوں ہمارے ابو نے مجھے پڑھانے لکھانے کے لیے کیا کیا نہیں کیا۔ ہماری اماں نے کبھی آرام کی سانس نہیں لی۔ بس ہمارے آرام کا سوچا ۔ اسی لیے میں نے خوب خوب محنت کی۔ ہر ماہ کی پہلی دوسری تاریخ میں ابو کا منی آرڈر مجھے مل جایا کرتا تھا اور میں ان کے پیسے کو ایک ایک کرکے صرف حسب ضرورت خرچ کرتاتھا۔ میں نے بہت محنت سے پڑھائی کی۔ ہمیشہ کلاس میں فرسٹ آیا۔کالج کی ہر ایکٹی ویٹی میں شامل رہتا تھا۔ اس لیے سبھی اساتذہ کا بھی نور نظر تھا۔ بی اے کے آخری سال میںمیرے استادمبشرکریم نے مجھے گائیڈ کیا اور کہا تمہاری محنت ، حوصلہ اور لگن دیکھ کر میں چاہتا ہوں کہ تم بی اے کے بعد ایم بی اے کرو۔ کل تم کسی کمپنی کے مالک بن جاؤ گے۔ ان کے مشورے سے میں نے منجمنٹ اسکول میں داخلہ لے لیا۔ بلکہ منجمنٹ اسکول میں داخلہ کرانے میں انہوں نے بڑا رول ادا کیاتھا اور بڑی محنت کی تھی۔ بلکہ ایم بی اے فرسٹ ایئر کی ساری فیس انہوں نے ہی دی۔ابو بھی پوری پابندی سے پیسے بھیج دیا کرتے تھے۔ 
میں ایم بی اے فائنل ایر میں تھا۔ آخری امتحان میں صرف ایک ہفتہ رہ گیا تھا۔ مجھے ایک دن پرنسپل آفس میں بلایا گیا۔ پرنسپل صاحب نے میرے گھر سے آیاہوا تار مجھے دکھایا اور چھٹی دیتے ہوئے کہا تم اسی وقت اپنے گھر جاؤ۔ میں نے اپنا سامان لیا اورایک دن کے سفر کے بعد جب گھر پہنچا تو دیکھا کہ ابو چارپائی پر لیٹے ہوئے ہیں۔ سخت بیمارہیں۔لیکن انہوں نے جیسے میری آواز سنی اٹھ بیٹھے اور ایسے باتیں کرنے لگے جیسے انہیں کچھ ہوا ہی نہیں۔
 اماں نے بتایا کہ ایک مہینے سے وہ کام پر نہیں گئے ہیں۔ صرف خون کی الٹیاں کررہے تھے۔
لیکن میں جب سے آیا ہوں ایک بار بھی الٹی نہیں ہوئی۔ انور حسین نے کہا۔
وہ تمہیں دیکھ کر ٹھیک ہوگئے ہیں۔ اماں نے کہا۔ 
میں نے بہت اصرار کیا کہ شہر لے جاکر ابو کا چیک اپ کراؤں مگر انہوں نے جانے سے بالکل انکار کردیا۔در اصل اس پانچ سال میں انہوں نے بہت محنت کی تھی۔ مجھے پڑھانے کی آرزو لے کر وہ رکشہ نہیں مانو جہاز چلایا کرتے تھے۔ جس کی وجہ سے ان کا پھیپھڑے خراب ہوگئے تھے اور وہ خون کی الٹیاں کررہے تھے۔ لیکن میرے دیکھتے ہی وہ اٹھ بیٹھے اور ایسا لگا جیسے ٹھیک ہوگئے ہوں۔ ادھر میرے امتحان میں صرف تین دن رہ گئے تھے۔ میں کالج چلا گیا۔ امتحان ختم ہوگیاتھا۔ میں پھر فرسٹ پوزیشن سے کامیاب ہوا تھا۔ کالج کی پلیس منٹ کمپنی نے مجھے دوہزار روپے ماہانہ پر کمپنی کااسو سی ایٹ بنالیا تھا۔مگر کمپنی کا اصرار تھا کہ میں فورا کمپنی جوائن کروں۔میں نے جوائن کرلیا اور اس کے بعد کمپنی نے میری محنت دیکھ کر امریکہ میں اپنی ہی ایک برانچ میں بھیج دیا۔ میں ایک سال کے بعد ہندوستان آیا اور پھر گھر گیا تو اماں نے بتایا کہ میرے واپس آنے کے بعد ابو کا انتقال ہوگیا تھا۔ انہوں نے وصیت کی تھی کہ انور حسین کو میری موت کی بالکل خبر نہ دی جائے کہ خواہ مخواہ اس کا کیریر داؤ پر لگ جائے گا۔ اسی لیے تمہیں بالکل نہیں بتایا گیا۔انور حسین کو یہ خبر سن کر سخت تکلیف ہوئی اور وہ بھاگا بھاگاقبرستان گیا۔ نمازجنازہ پڑھی اور ان کے لیے دعائے مغفرت کی۔یہ سب بتاتے بتاتے انور حسین آبدیدہ ہوگئے تھے۔ ان کی آنکھیں ڈبڈبا گئی تھیں اور آواز بھرا گئی تھی۔
انہوں نے کہا! آج اس واقعے کو پچیس سال گذر چکے ہیں اور میں پچاس سال کا ہوچکا ہوں۔میرے تجربے کو دیکھتے ہوئے امریکہ کے بعد مجھے بمبئی بیسڈ ایک کمپنی میں سی او کی ملازمت آفر ہوئی۔ آج میں اسی کمپنی میں دس سال سے ملازم ہوں۔بلکہ کمپنی کا مالک ہوں۔ مجھے میرے رب نے کیا نہیں دیا۔ اتنی دولت شہرت اورعزت کہ اس کا شکر بھی ادا نہیں کرسکتے۔مجھے ہمیشہ اپنی غربت کی چادر یاد رہتی ہے۔ میں نے اپنی کمپنی میں کبھی کسی غریب کو نظر انداز نہیں کیا۔ تمہیں پتہ نہیں میں ہر ماہ ابو کے اس تین سو روپے کا دس گنا پیسہ پوری پابندی سے غریبوں میں ابو کے نام پر صدقہ کرتا ہوں۔ میں نہیں چاہتا کہ کسی غریب بچے کے باپ کو کبھی رکشہ چلانا پڑے۔انور حسین بولتے رہے۔ انہوں نے ایک لمبی سانس لیتے ہوئے کہا: ایک وہ زمانہ تھا کہ ابو اور اماں ایک ایک پیسے کے لیے ترستے تھے، جانکاہی کرتے تھے۔ ایک یہ زمانہ ہے کہ ہمارے پاس کیا نہیں ہے۔انہوں نے اپنی بیوی کو مخاطب کرکے کہا: تمہارے لیے گھر میں ملازمہ ہے۔ کچن میں خانساماں ہے۔ تمہیں کوئی کام کرنا نہیں پڑتا سارے نوکر چاکر گھریلو کام کرتے ہیں۔ لیکن میری ماں نے کبھی آرام کی سانس نہیں لی ۔ دن رات کام کیا۔ان کو میں نے اپنے پاس بلانے کی بہت کوشش کی مگر وہ کہتیں کہ میں یہاں آرام سے ہوں۔ تمہارے پیسے برابر ملتے رہتے ہیں۔ تمہارے بڑے بھائی کی اولادیں ہیں۔ ان کے ساتھ میں مصروف رہتی ہوں۔بڑی بہو بھی میرابہت خیال رکھتی ہے۔ میں وہاں شہر جاکر کیا کروں گی۔ گم ہوجاؤں گی۔ یوں وہ کبھی بھی میرے پاس نہیںآئیں۔ ہاں مجھے خوشی ہے کہ میری ملازمت کے بعد انھیں کام نہیں کرنا پڑتا تھا۔ میں نے ہمیشہ ان کا خیال رکھا اور جب تک زندہ رہیں پھر کبھی کام نہیں کرنے دیا۔ ہماری شادی سے دو سال قبل ان کا انتقال ہوا تھا۔ آج یہ انواع واقسام کے کھانے دیکھ کر اماں کی بڑی یاد آئی۔ اس لیے میں نے یہ سارے کھانے غریبوں میں تقسیم کرنے کے لیے کہا تاکہ اس صدقے کا ثواب اماں ابو کو نصیب ہو۔
رابطہ؛صدر شعبۂ عربی بابا غلام شاہ بادشاہ یونیورسٹی راجوری جموں وکشمیر
موبائل نمبر؛9086180380