تازہ ترین

روہنگیا بحران کی رپورٹنگ پر 2 صحافیوں کو مقدمات کا سامنا

11 جولائی 2018 (00 : 01 AM)   
(      )

یو این آئی
یانگون// میانمار کی عدالت نے برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز سے تعلق رکھنے والے 2 صحافیوں پر روہنگیا کے خلاف قتل عام کی رپورٹنگ کے دوران راز داری برتنے کے ملکی قانون کی خلاف ورزی پر مقدمات چلانے کے احکامات دے دیے۔فرانسیسی خبر رساں ادارے ’اے ایف پی‘ کی رپورٹ کے مطابق مذکورہ فیصلے کے دن کو ملکی تاریخ میں ا?زادانہ صحافت کا سیاہ دن قرار دیا جارہا ہے۔خیال رہے کہ میانمار کے شہری صحافی 32 سالہ ’وا لون‘، اور 28 سالہ ’یا سوئی او‘ کو دسمبر 2017 میں گرفتار کیا گیا تھا اور ان پر الزام عائد کیا گیا تھا کہ ان کے پاس رخائن اسٹیٹ میں سیکیورٹی آپریشن سے متعلق حساس نوعیت کی دستاویزات تھیں۔دونوں صحافی باضابطہ مقدمہ چلنے سے 7 ماہ قبل سے ہی زیر حراست ہیں، جنہیں میانمار کے راز داری برتنے کے قانون کے تحت گرفتار کیا گیا تھا۔اس سلسلے میں مقدمے کی پہلی سماعت کے لیے 16 جولائی کی تاریخ مقرر کی گئی، دونوں صحافیوں پر اگر الزام ثابت ہوگیا تو انگریز دور کے بنے ہوئے قانون کے تحت انہیں 14 سال تک کی سزا ہوسکتی ہے۔اس حوالے سے خبر رساں ادارے کا کہنا تھا کہ دونوں صحافی بے گناہ ہیں اور وہ ستمبر میں روہنگیا مسلمانوں کے خلاف ہونے والے قتل عام کی رپورٹنگ کر کے صرف اپنی صحافتی ذمہ داری ادا کررہے تھے، ادارے نے عدالت پر زور دیا کہ دونوں صحافیوں کے خلاف مقدمہ خارج کیا جائے۔تاہم اس حوالے سے عدالت نے فیصلہ کیا کہ صحافیوں کے خلاف اس الزام کے کافی شواہد موجود ہیں کہ وہ سرکاری افسران سے معلومات اکھٹی کررہے تھے۔دوسری جانب صحافیوں کے خلاف عدالتی حکم کو دائیں بازو کی تنظیموں اور غیر ملکی مبصرین کی جانب سے تنقید کا نشانہ بنایا گیا اور اسے آزادی صحافت کے منافی قرار دیا گیا جبکہ اسے روہنگیا بحران کی رپورٹنگ کو روکنے کے مترادف دیکھا جارہا ہے۔ادھر ایمنسٹی انٹرنیشنل، ہیومن رائٹس واچ اور آزادانہ تقریر کی تنظیم آرٹیکل 19 نے اس اقدام کو آزادی اظہار رائے کا گلہ گھوٹنے کی کوشش قرار دیا۔