تازہ ترین

منظوم سفرنامۂ حج

13 جولائی 2018 (00 : 01 AM)   
(      )

محمد عبد الحمید صدیقی نظرؔ لکھنوی​
 سرگذشتِ مختصر ہے حجِ بیت اللہ کی
یعنی رودادِ سفر ہے حجِ بیت اللہ کی
سایہ افگن ہو گئی جب مجھ پہ شامِ زندگی
آرزوئے حجِ بیت اللہ دل میں جاگ اٹھی
اپنے خالق سے دعاجُو روز و شب رہتا تھا میں
سننے والا ہے جو سب کی، اس سے بس کہتا تھا میں
قرعہ اندازی میں فضلِ رب سے نام آیا نکل
ہو گیا سجدہ کناں پیشِ خدائے لم یزل
جامہٴ احرام باندھا ساز و ساماں کچھ لیا
گھر سے پھر لبیک کہتا سر خوشی میں چل دیا
سن بیاسی کے ستمبر میں بوقتِ سہ پہر
رُخ مری پرواز کا تھا میری منزل تھی جدھر
شام کو جدہ پہنچ کر عازمِ مکہ ہوا
مولدِ ختم الرسلؐ یعنی سوئے اُم القریٰ
غرق سیلِ سر خوشی تھا دل در اثنائے سفر
اشک امڈ آتے تھے اکثر آنکھ ہو جاتی تھی تر
اپنے اک ناچیز بندہ پر خدا کا یہ کرم
عزت و اکرام سے لے جا کے دکھلایا حرم
الغرض گیارہ بجے شب داخلِ مکہ ہوا
جھانک کر دیکھا حرم تھا نور میں ڈوبا ہوا
روشنی تھی اس قدر، تھا رات کو دن کا سماں
ایسا لگتا تھا کہ رات آتی نہیں جیسے یہاں
ساتھ سب ہمراہیوں کے پھر کیا عمرہ ادا
طوفِ بیت اللہ کیا، سعیِ صفا مروہ کیا
خانۂ کعبہ پہ طاری تھا خداوندی جلال
کر سکے کوئی بیاں اتنی کہاں تاب و مجال
اک ہجومِ عاشقاں طوفِ حرم میں مست تھا
غافل از ہنگامہٴ دنیائے بود و ہست تھا
ختم دوری لگ رہی تھی عابد و معبود میں
فاصلہ جیسے نہ تھا کچھ ساجد و مسجود میں
سعیِ بیتابانہ مروہ اور صفا کے درمیاں
عشقِ قلبِ ہاجرہ ؑکی ایک زندہ داستاں
آبِ زمزم پُر مزہ، شیریں، مصفّیٰ، خوشگوار
سیر ہو کر زائریں پیتے تھے جس کو بار بار
پیٹ بھر کر ہی پیا ہم نے اسے جس دم پیا
ہم یہ کہہ سکتے ہیں ہم نے خوب ہی زمزم پیا
دیکھتے ہی دیکھتے ایامِ حج جب آ گئے
جامہٴ احرام میں حاجی منیٰ کو چل دیے
قلبِ ہر زائر منیٰ جانے کو بے کل ہو گیا
پانچ دن کے واسطے جنگل میں منگل ہو گیا
ایک وادی دور تک پھیلی ہوئی وہ بے کنار
چاروں جانب ایستادہ جس کے اونچے کوہسار
شام آئی رات گزری جب ہوا وقتِ پگاہ
بس پہ چڑھ کر منزلِ عرفات کی لی سب نے راہ
تھا عجب خیموں کا منظر وادی عرفات میں
آ گئی دنیا سمٹ کر وادی عرفات میں
اژدھام اللہ اکبر وادی عرفات میں
آ رہی تھی یادِ محشر وادی عرفات میں
شام ہوتے ہی وہاں سے سوئے مزدلفہ چلے
جا رہے تھے آگے پیچھے حاجیوں کے قافلے
وقتِ رخصت اُف دعائیں سسکیوں کے درمیاں
رقت انگیزی کا دل کی یاد ہے اب تک سماں
قدر کی شب سے بھی افضل رات مزدلفہ کی ہے
ہے وہ بابرکت جگہ کیا بات مزدلفہ کی ہے
زیرِ چرخِ پیر فرشِ خاک پر بستر بچھا
صبح ہوتے ہی منیٰ پھر قافلہ واپس ہوا
جمرۂ عقبیٰ پہ کی ہر فرد نے جا کر رمی
مستقر پر آ گیا کر کے رمی ہر آدمی
ہم چلے خیمہ سے اپنے جانبِ قربان گاہ
تھا ہجوم اتنا بڑا ملتی نہ تھی چلنے کی راہ
ذبحِ اسماعیل ؑ کی اللہ رے یہ یادگار
ذبح ہونے کو مویشی تھے قطار اندر قطار
جانور مذبوح جتنے تھے زمیں پر تھے پڑے
ذبح ہونا تھا جنہیں وہ سر جھکائے تھے کھڑے
اونٹ کا سودا چکا کر اونٹ قرباں کر دیا
کام قربانی کا ہم نے حسبِ فرماں کر دیا
طوفِ زیارت دوسرے دن جا کے مکہ میں کیا
اپنے خیمہ میں اسی دن پھر منیٰ واپس ہوا
بارھویں کی شام تک ہم آ گئے اُم القریٰ
لطف و فضلِ رب سے فرضِ حج پورا ہو گیا
اب دلِ پر شوق میں تھا بس مدینے کا خیال
کر رہے تھے انتظارِ لطفِ ربِ ذوالجلال
تیرہ اکتوبر کی آئی آخرش صبح سعید
سوئے طیبہ چلنے کی آخر ملی ہم کو نوید
شہرِِ طیبہ میں قدم زن ہم ہوئے وقتِ عشا
آٹھ دن رہنے کی اگلی صبح سے تھی ابتدا
گنبدِ خضریٰ پہ میری جب پڑی پہلی نظر
کیا بتائیں کیفیت گزری جو قلب و روح پر
مسجدِ نبوی ؐکے سب مینار ہیں کیف آفریں
شہر پورا فیضیابِ رحمة اللّعٰلمیں
ہر نمازِ صبح ہم نے کی مواجہہ میں ادا
بابِ جبرائیل سے اقرب ہے جس میں داخلہ
اشک افشاں آنکھ ہو جاتی تھی دورانِ سلام
کیا کہیں کیسی جگہ ہے روضۂ خیر الانامؐ
روح کو تسکین ملتی دل کو ملتا تھا قرار
ہم سلام اٹھ کر پڑھا کرتے تھے دن میں بار بار
جس طرف اٹھتی تھیں نظریں تھے نمازی ہر جگہ
کوئی باقی تھی نہ مسجد میں کہیں تل بھر جگہ
ہر گلی کوچہ سے وابستہ ہے یادِ مصطفیٰؐ
سیر اُن کوچوں میں کی ہے آٹھ دن تک مرحبا
ذرہ ذرہ خاکِ طیبہ کا قدم بوسِ رسولؐ
چشمِ ہر مومن کا سرمہ مرحبا ہے واں کی دُھول
آٹھ دن وہ زندگی کے زندگی کی یادگار
پُر جمال و بے مثال و پُر سکون و پُر بہار
الوداع اس شہرِ خوباں کو کہا اکیس کو
آ گئے پھر ماہِ اکتوبر کی ہم چوبیس کو
دل کی دنیا میں اُجاگر ہے مدینے کا خیال
پھر رہا ہے میری نظروں میں مدینہ کا جمال
رات کی تنہائیوں میں دل پہنچتا ہے وہیں
تا دمِ آخر مدینہ بھول سکتا ہوں کہیں
ہے خدا کا شکر روضہ کی زیارت ہو گئی
اے نظرؔ اب دل کو اُمید ِ شفاعت ہو گئی