تازہ ترین

نفرت اور عداوت کے جذبات بدلنے ہونگے

6 اکتوبر 2016 (00 : 12 AM)   
(      )

1

 

بھارت اور پاکستان کے درمیان سرحدی کشید گی کا خاتمہ کرنے کیلئے دونوںملکوںنے اس بات پر اگرچہ اتفاق کرلیاتھا کہ حالات کو بہتر بنایا جائے گا لیکن اس کے دوسرے ہی دن نوشہرہ سیکٹر میں صبح سے ہی دونوںملکوں کی فوج کے درمیان گولی باری ہوتی رہی ۔سوموار 3اکتوبر کو بھارت کے قومی سلامتی مشیر اجیٹ ڈوبھال نے پاکستان میں اپنے ہم منصب ناصر جنجوعہ کے ساتھ ٹیلی فون پر رابط قایم کرکے انہیں بتایا کہ سرحدوں پر بڑھتی ہوئی کشیدگی کم کرنے کیلئے مشترکہ اقدامات کی ضرورت ہے جس پر پاکستان نے اتفاق کرلیا اور بھارت کے قومی سلامتی مشیر کو اس بات کا یقین دلایا گیا کہ قیام امن کیلئے بھارت جو بھی اقدامات کرے گا پاکستان اس کو پیچھے نہیں پائے گا ۔لیکن اس کے صرف دس پندرہ گھنٹے بعد ہی کنڑول لاین پر نوشہرہ سیکٹر میں صبح 5 بجے سے ہی اس قدر گولی باری ہوئی کہ ان سیکڑوں اور آس پاس کے دوسرے سیکٹروں میں سرحدی آبادی خوفزدہ ہوکر ترک سکونت کرنے لگی ۔اس بارے میں بھارت کی طرف سے پاکستان پر جنگ بندی کی خلاف ورزیوں کے الزامات عاید کئے جارہے ہیں جبکہ پاکستانی میڈیا نے سرکاری ذرایع کا حوالہ دے کر کہا کہ بھارت کی طرف سے کل بھی مختلف سیکٹروں میں جنگ بندی کی خلاف ورزی کی جاتی رہی ۔ان حالات میں کس پر بھروسہ کریں اور کس پر نہ کریں ۔سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر دونوں ملکوں کے درمیان جنگ ہوتی ہے تو اس سے صرف اور صرف تباہی پھیل سکتی ہے ۔اس کے بعد بھی جو متنازعہ مسایل ہیں وہ جوں کے توں رہینگے ان کو پھر بھی بات چیت کے ذریعے ہی حل کرنا ہوگا تو پھر کیوں نہ ابھی سے بات چیت کا سلسلہ شروع کرنے کیلئے کوششیں شروع کی جائیں ۔گذشتہ دنوں اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل بانکی مون نے بتایا کہ بھارت اور پاکستان کے درمیان جتنے بھی متنازعہ مسایل ہیں اگر فریقین چاہئیں تو اقوام متحدہ صلح صفائی کیلئے ثالثی کرنے کیلئے تیار ہے اسلئے دونوں ملکوں کو اس موقعے سے فایدہ اٹھانا چاہئے اور بات چیت کا سلسلہ شروع کرنا چاہئے اگر ان کو ایک دوسرے پر بھروسہ نہیں تو پھر اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کو بات چیت کے عمل میں شامل کیاجانا چاہئے ۔اس وقت دونوں ملکوں کی طرف سے ایک دوسرے کیخلاف زبردست بیان بازیاں کی جارہی ہیں جس سے حالات میں بہتری کے بجاے کشید گی میں اضافہ ہوتا جارہا ہے ۔یہ بھی ایک وجہ ہے قیام امن کی راہیں بند پڑی ہیں اور فریقین میں سے کوئی بھی امن کیلئے تیار نظر نہیں آتا ہے ۔جو دونوں ملکوں کے عوام کے لئے سود مند ثابت نہیں ہوسکتا ہے ۔سرحدوں پر تنائو ،دلوں میں عداوت اور ایک دوسرے کے تئیں زبردست نفرت کے جذبات کو تبدیل کرنا ہوگا تب کہیں جاکر حالات میں سدھار آسکتا ہے ۔