تازہ ترین

بٹوارہ میں 6دہائی پرانا ڈاک خانہ سیکورٹی وجوہات کی بنا پر مقفل

عوام کا گورنر انتظامیہ سے پوسٹ آفس کو دوبارہ علاقہ میں منتقل کرنے کی مانگ

9 جولائی 2018 (29 : 01 AM)   
(      )

بلال فرقانی
سرینگر//بٹوارہ میں قریب 4ماہ قبل 6دہائیو ں سے قائم ڈاک خانہ کو کنٹونمنٹ بورڈ کی طرف سے بند کئے جانے سے عوام کو سخت مشکلات کا سامنا کرنا پڑرہا ہے۔ مقامی آبادی نے گورنر انتظامیہ سے مطالبہ کیا ہے کہ ڈاک خانہ کو کسی موزون جگہ پر دوبارہ کھولا جائے جس پر کنٹونمنٹ بورڈ بھی معترض نہ ہو۔ شہر کے بٹوارہ علاقے میں گزشتہ 60 برسوں سے زائد عرصے سے قائم ڈاک خانہ کو کنٹونمنٹ بورڑ نے مارچ میں اچانک بند کردیا جس کی وجہ سے قریب 40 ہزار کی آبادی کو گزشتہ 4ماہ سے سخت مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ مقامی لوگوں نے گورنر انتظامیہ سے اپیل کی ہے کہ وہ اس معاملے میں مداخلت کریں۔ سرینگرمیں قائم قدیم ڈاک خانوں میں سے ایک ڈاک خانہ کو مارچ میںمقفل کر دیااور تمام سامان اور دیگر اشیاء کو گاڑیوں میں لادکر جنرل پوسٹ آفس منتقل کیا گیا۔ مقامی لوگ حسرت بھری نگاہوں سے اس قدیم ڈاک خانے کو مقفل ہوتے دیکھتے ہی رہ گئے۔
محکمانہ ذرائع کا کہنا ہے کہ محکمہ ڈاک خانہ کو کچھ عرصہ کنٹونمنٹ بورڑ سے ایک مکتوب موصول ہوا،جس میں کہا گیا کہ سیکورٹی وجوہات کی بنیاد پر اس ڈاک خانہ کو بند کیا جائے۔ذرائع کے مطابق کنٹونمنٹ بورڑ بادامی باغ کے چیف ایگزیکٹو افسر کی طرف سے6مارچ کو ایک مکتوب زیر نمبرCB/post Office/5150پوسٹ ماسٹر بٹوارہ ڈاک خانہ کے نام موصول ہوا جس میں پوسٹ آفس کو خالی کرنے کی ہدایت دی گئی۔  مکتوب میں کہا گیا تھا’آپ نے پوسٹ آفس بلڈنگ پر قبضہ کیا ہے جو کہ بادامی باغ کنٹونمٹ کی ہے اور سیکورٹی وجوہات کی بنیاد پر آپ کو مشورہ دیا جاتا ہے کہ آپ اس پوسٹ آفس بلڈنگ کو فوری طور پر خالی کریں‘‘۔ادھر ڈاک خانے کی عمارت میں شامل چند دکانوں کو بھی سیکورٹی بنیادوں پر مقفل کیا گیا تھا،تاہم بعد میں انہیں 2ماہ کے بعد کھول دیا گیا۔مقامی لوگوں نے بتایا کہ پوسٹ آفس کو جنرل پوسٹ آفس منتقل کرنے کی وجہ سے کئی علاقوں کے لوگوں کو سخت مشکلات کا سامنا کرنا پڑرہا ہے۔انہوں نے سوالیہ انداز کہا کہ اگر دکانوں سے سیکورٹی کو کوئی خطرہ نہیں ہے تو پوسٹ آفس سے کیونکر انہیں خطرہ لاحق ہے۔مقامی لوگوں نے گورنر انتظامیہ سے اپیل کی وہ اس معاملے میں مداخلت کریں اور فوری طور پر ڈاک خانے کو واپس اپنی پرانی جگہ منتقل کرنے کیلئے سبیل کریں،نیز انہوں نے چیف پوسٹ ماسٹر جنرل سے بھی اپیل کی وہ وہ متبادل جگہ علاقے میں فراہم کریں تاکہ مقامی لوگوں کو مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ اس ڈاک خانے میں مقامی لوگوں کے قریب3ہزار کھاتے موجود ہیں،جنہیںاب5کلو میٹر دور پوسٹ آفس کا رخ کرنا پڑ رہا۔ پوسٹ آفس کشمیر کے قدیم ترین ڈاک خانوں میں شمار ہوتا ہے،اور مقامی لوگوں کے مطابق60برس سے زائد عرصے سے یہاں یہ پوسٹ آفس قائم تھا۔ مقامی لوگوں کے مطابق یہ ڈاک خانہ بٹوارہ کے علاوہ،اندرا نگر،اقبال کالونی،یتو محلہ،شیو پورہ،پاندریٹھن،سوئیہ ٹینگ،گنڈہ بل اور ملحقہ علاقوں کے علاوہ  بادامی باغ میں تعینات فوجی اہلکاروں کیلئے بڑی سہولیت فراہم کرتا تھا،تاہم اچانک اس کو مقفل کرنے سے عام شہریوں کا کافی مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا۔ایک مقامی بزرگ نے بتایا ’’پوسٹ آفس گزشتہ60برسوں سے وہاں پر موجود ہے،اور اگر تب سے اس سے کوئی گزند نہیں پہنچی تو اچانک یہ نقصان دہ کیسے ثابت ہوسکتا ہے‘‘۔