تازہ ترین

کولگام عام شہریوں کے لہو سے لت پت

لڑکی سمیت 3 نوجوان راست گولیوں کا نشانہ

8 جولائی 2018 (00 : 01 AM)   
(      )

خالد جاوید

 جنوبی کشمیر میں شدید احتجاجی مظاہرے،جنازوں میں ہزاروں کی شرکت، ترال میں کرفیو نافذ

 
کولگام//کولگام کو ایک مرتبہ پھر خون میں اس وقت غلطان کیا گیا جب فوج نے ہائورہ مشی پورہ علاقے میں اندھا دھند فائرنگ کر کے ایک کمسن طالبہ سمیت3افراد کو ابدی نیند سلا دیا،جبکہ2کو شدید زخمی کیا۔شہری ہلاکتوں کے بعد پر تشدد احتجاج لہر شروع ہوئی،جبکہ مہلوک شہریوں کے آخری سفر میں ہزاروں لوگوں نے شرکت کی،جس دوران عسکری نوجوان بھی نمودار ہوئے اور انہوں نے ہوا میں فائرنگ کی۔پولیس کا کہنا ہے کہ فوج کی گشتی پارٹی کو ہائورہ میں شرپسندوں نے پتھرائو کیا اور انہیں منتشر کرنے کیلئے کاروائی عمل میں لائی گئی،جس کے دوران3افراد جان بحق ہوئے،تاہم فوج کا کہنا ہے کہ فوج پر سنگبازی اورپیٹرول بموں سے حملہ کے علاوہ جنگجوئوں نے فائرنگ بھی کی، جس کے دوران محتاط فائرنگ میں3جانیں ضائع ہوئیں۔

 واقعہ

کولگام سے چند کلو میٹر دور واقع علاقہ مشی پورہ ہائورہ اس وقت لہو لہان ہوا،جب فوج نے شہریوں کو نشانہ بناتے ہوئے گولیاں چلائی،جس میں ایک کمسن طالبہ سمیت3افراد ہلاک جبکہ مزید5زخمی ہوئے۔ عینی شاہدین نے بتایا کہ کیموہ اورکھڈ ونی کے درمیان ایک چھوٹے گاوں ہاورہ مشی پورہ میں سنیچر کے روز دن کے 10بجے کے قریب فوج کے62آر آر کی ایک پارٹی ہاتھوں میںڈنڈے لے کردوڑتے دوڑتے گاوں میںمیں داخل ہو کر آتے ہی توڑ پھوڑ کرنے لگے جس کے دوران چند لوگ فورسز کی یہ کاروائی دیکھ کر گھروں سے باہر آئے اور فورسز کی اس بلا شتعال کارروائی کو روکنے کے لئے فورسز پتھراو کیا۔ عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ ایک گھنٹہ تک یہ صورتحال جاری رہی جس کے بعد فوج اور نوجوانوں کے درمیان جھڑپیں ہوئیںجس کے دوران فورسز نے پتھراو کرنے والے نوجوانوں پر گولیوں کی بوچھاڑ کر دی ۔ نذدیکی قبرستان سے گھاس نکال رہے دو نوجوان 17شاکر احمدکھانڈے ولد محمد حسین کھانڈے اور 18سالہ ارشاد احمد لون ولدعبد المجید لون کے علاوہ نزدیکی سکول سے تماشا دیکھ رہی 12سالہ عندلیب جان عرف انجلی دختر علی محمد الائی ساکنان ہاور ہ مشپورہ بھی گولی کی شکار ہو کر طرح زخمی ہوئی ۔تمام زخمیوں کو مقامی آبادی نے ہاتھوں اور موٹر سائیکلوں پر اٹھا کر فوری طور پبلک ہیلتھ سنٹر فرسل یاری پورہ پہنچایا ۔عینی شاہدین نے بتایا تینوں کو اسپتال کے اندر داخل ہونے کے ساتھ ہی داکٹروں نے مردہ قرار دیا ۔جبکہ دیگر5نوجوان گولی لگنے کی وجہ سے بری طرح زخمی ہوئے جن میںارشاد احمد لون ولد عبد المجید لون کو نازک حالت میں پہلے اسپتال اور بعدمیں سرینگر منتقل کیا گیا ۔ معلوم ہواہے کہ زاہد اپنے مہلوک برادر کے ہمراہ مذکورہ قبرستان گھاس نکال رہے تھے ۔جبکہ دیگر زخمیوں کو فرسل اور اننت ناگ منتقل کیا گیا ہے جہاں ایک کو چھوڑ کر باقی زخمی نوجوانوں کی حالت مستحکم بتائی جا رہی ہے۔

افراتفری

 کمسن طالبہ اور دیگر دو نوجوانون کے ہلاکت کی خبرجنگل کی آگ کی طرح پھیل گئی۔عینی شاہدین کے مطابق مشی پورہ کے علاقوںکے مضافات میں واقع تمام چھوٹے بڑے دیہات میں لوگوں نے مساجد کے لاوڑ سپیکر وں پر ایک ہی جگہ جمع ہونے کا اعلان کیا جس کے بعد ہزاروں لوگوں کی تعداد میں لوگ مذکورہ گائوں پہنچ گئے۔ جہاںشہری ہلاکتوں کے خلاف حتجاج کرنے لگے جس کے دوران فورسز اور نوجوانوں کے درمیان شدید جھڑپیں ہوئیں۔فورسز نے مظاہرین کو منتشر کرنے کیلئے درجنوں آنسوں گیس کے گولے داغے جس کے دوران کچھ نوجوان معمولی طور زخمی ہوئے ۔نمائندے نے بتایا جب علاقے میںنوجوان کی نعشوں کو اسپتال سے واپس علاقے میں پہنچایا گیا تو وہاں کہرام مچ گیا ۔

آخری سفر

تینوں مہلوک نوجوانو ںکے متعدد بارنماز جنازہ ادا کی گئی ۔ پہلا جنازہ ساڑے تین بجے کے قریب ادا کر کے تینوں نوجواوں کو سپر لحد گیا گیا جن میں ہزاروں کی تعداد میں لوگوں نے شرکت کی ۔جناز ہ جلوس کے وران چند بندوق بردارجنگجوئوں نے بھی نمودار ہو کر ہوائی میں کچھ گولیوں کے راونڈ چلائے ۔ اس دوران زبردست احتجاجی مظاہرے ہوئے،جبکہ ریڈونی،کھڈونی،کیموہ،مشی پورہ ہ کے نوجوانوں نے سنگبازی کی۔ادھر کولگام میں بھی نوجوان بھی سڑکوں پر آئے،اور احتجاج کرنے لگے،جس کے بعد سنگبازی ہوئی۔

 فوج و پولیس کا ردعمل

کولگام کے مشی پورہ میں پیش آئے واقعے پر پولیس نے اس بات کا اعتراف کیا کہ کولگام میں فوج کی فائرنگ سے3 شہری جان بحق ہوئے،پولیس نے اس سلسلے میں بیان جاری کرتے ہوئے کہا’’ ضلع کولگام یں فوج کی ایک گشتی پارٹی ہائورہ مشی پورہ سے گزر رہی تھی،جس پر شرپسندوں نے پتھرائو کیا،ترجمان کے مطابق’’فوج نے شرپسندوں کو منتشر کرنے کی کوشش کی،جس کے دوران5 افراد زخمی ہوئے۔ پولیس ترجمان کے مطابق زخمیوں کو نزدیکی اسپتال پہنچایا گیا،تاہم بعد میںایک لڑکی سمیت3 افراد زخموں کی تاب نہ لاکر جان بحق ہوئے،جبکہ پولیس نے اس معاملے کی تحقیقات شروع کی ہے۔ادھر فوج نے اس واقعے سے متعلق اپنا بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ کولگام کے ہائورہ علاقے سے فوج کی ایک گشتی پارٹی سخت پتھرائو کے زد میں آئی،اور اس دوران جب فوج نے صبر کا مظاہرہ کیا،تاہم400سے500 مشتعل ہجوم نے فوج کا تعاقب کیا،اور خطرناک طریقے سے نزدیک آنے کی کوشش کی۔ دفاعی ترجمان لیفٹنٹ کرنل راجیش کالیہ کے مطابق اس دوران فوج نے صبر و تحمل کا مظاہرہ کیا،اور سنگبازوں کو بھی متنبہ کیا،تاہم انہوں نے مسلسل پتھرائو اور پیٹرول بموں سے حملہ کیا۔کالیہ نے کہا’’ ایک موقعہ پر نامعلوم جنگجوئوں نے بھی فوج پر فائرنگ کی،جس کے دوران کچھ اہلکار زخمی ہوئے ،جبکہ اس کے ردعمل میں فوج نے اپنی دفاع میں محتاظ فائرنگ کی،جس کے دوران بدقسمی سے3جانیں ضائع ہوئیں۔راجیش کالیہ نے مزید کہا کہ زمینی حالات سے متعلق حقائق کی چھان بین کی جا رہی ہے۔