تازہ ترین

۔13جولائی1931:مزاحمتی ،سیاسی اور مذہبی جماعتوں کا شہداء کو خراج عقیدت

13 جولائی 2018 (00 : 01 AM)   
(      )

۔ 1931کے شہداء نے مزاحمت کا عنوان رقم کردیا:مزاحمتی خیمہ 

 حق خود ارادیت کے حوالے سے سنگِ میل:گیلانی /ملک

سرینگر//مزاحمتی جماعتوں نے کہا ہے کہ رواں جدوجہد آزادی 1931کے شہداء کی جدوجہد اور قربانیوں کا ہی تسلسل ہے ۔ حریت (گ )چیئرمین سید علی گیلانی،لبریشن فرنٹ چیئرمین محمد یاسین ملک ،تحریک حریت چیرمین محمد اشرف صحرائی ،بار ایسوسی ایشن،،پیپلزپولٹیکل فرنٹ،نیشنل فرنٹ،لبریشن فرنٹ( آر )، مسلم کانفرنس، جموں کشمیر پیپلز مومنٹ ،محاذآزادی، تحریک کشمیر،پیپلز لیگ اور حریت(جے کے)نے  کہا ہے کہ 13 جولائی 1931 کو کشمیریوں نے ظلم و جبر کے خلاف اپنی آواز بلند کی اور اپنے سینوں پر گولیاں کھاکر عزیمت کی نئی داستان رقم کردی ۔حریت (گ )چیئرمین سید علی گیلانی نے بھارت کے ارباب اقتدار کی طرف سے ریاست کے عام شہریوں کو اپنی فوجی طاقت کے ذریعے تختۂ مشق بنائے جانے کی تازہ ترین تاریخ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ یہ سلسلہ 13؍جولائی 1931 کو شروع کیا گیا ہے اور ابھی تک ختم ہونے کا نام نہیں لیتا ہے۔ 1931 کے شہداء کو خراج عقیدت ادا کرتے ہوئے گیلانی نے 13جولائی 1931 کو موجودہ تحریک حقِ خودارادیت کے حوالے سے اِسے ایک سنگ میل یا نقشہ راہ قرار دیا۔ انہوںنے اس نقشہ راہ کے مطابق اپنے منزل مقصود تک پہنچنے کے لیے عزم بالجزم کے ساتھ وابستہ رہنے کی ضرورت کو اُجاگر کرتے ہوئے کہا کہ ان شہداء نے اپنے مقدس لہو سے ہماری تحریک مزاحمت کا عنوان رقم کردیا ہے۔ حریت رہنما نے 1931 کے شہداء عبدالخالق شوریٰ، محمد اکبر ڈار، غلام احمد راتھر، عثمان مسگر، غلام احمد بٹ، غلام محمد حلوائی، غلام نبی کلوال، غلام احمد نقاش، غلام رسو دُرا، امیر الدین مکائی، محمد سبحان مکائی، غلام قادر خان، محمد رمضان چولہ، غلام محمد صوفی، نصر الدین، امیر الدین جندگرو، محمد سبحان خان، محمد سلطان خان، عبدالسلام، غلام محمد تیلی، فقیر علی، غلام احمد ڈار، مغلی اور عبداللہ آہنگر کی قربانیوں کو خراج عقیدت ادا کرنے کے بہترین طریقے کی نشاندہی کرتے ہوئے کہا کہ آج کے روز مزارِ شہداء پر حاضری  دے کر اس عہد کا اعادہ کرنا چاہیے کہ جس مقدس تحریک کے لیے ان اُولیٰ العظم شہداء نے اپنا گرم گرم لہو پیش کیا ہے ہم اس تحریک کو اپنے منطقی انجام پہنچا کر ہی دم لیں گے۔ حریت رہنما نے اس عزم کا بھی اعادہ کیا کہ ہم بھارت کی بلاجواز ہلاکت خیز کارروائیوں کا تب تک مردانہ وار مقابلہ کرتے رہیں گے جب تک نہ ہم اپنی منزل مقصود کو حاصل کریں گے۔ گیلانی نے 13جولائی کے یومِ شہداء کے حوالے سے قوم کے نام اپنے پیغام میں دردمندانہ اپیل کرتے ہوئے کہا کہ پوری قوم کو ان شہداء کے مقدس لہو سے سینچی ہوئی تحریک آزادی کے نقیب اور امین بن کر اس مقدس تحریک کے ساتھ وفا کرنے کا عہد کرلینا چاہیے۔لبریشن فرنٹ چیئرمین محمد یاسین ملک نے خراج عقیدت ادا کرتے ہوئے کہا کہ اسی دن کشمیریوں نے ظلم و جبر اور ناجائز تسلط کے خلاف اپنی آواز بلند کی اور درجنوں کشمیریوں نے اپنے سینوں پر گولیاں کھاکر عزیمت کی نئی داستان رقم کردی۔انہوں نے کہا کہ موجودہ تحریک آزادی 1931 کے شہداء کی جدوجہد اور قربانیوں کا ہی تسلسل ہے ۔انہوں نے کہا کہ’ ہمارے جوانوں کو پشت بہ دیوار کرکے بے دردی کے ساتھ قتل کیا جارہا ہے‘ ۔انہوں نے کہا کہ ترہگام میں ایک اور بچے کا سفاکانہ قتل انسانی جبر و عناد کی داستان کا ایک اور سیاہ باب ہے۔ لبریشن فرنٹ چیئرمین 6 جولائی سے تھانہ کوٹھی میں مقید ہیں ۔بیان کے مطابق پولیس نے ان کے خلاف انتہائی جارحانہ رویہ اختیار کیا ہوا ہے۔ ترجمان نے اس کی  مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ جموں کشمیر ایک پولیس ریاست ہے جہاں صرف جنگل راج قائم ہے۔ محبوس فرنٹ چیئرمین نے اپنے پیغام میں کہا ’’ آج ہم اپنے اُن شہداء کی یاد منارہے ہیں جنہوں نے کوئی ایک صدی قبل ظالم اور جابروں کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر اسلام، آزادی اور عزیمت کا نعرہ بلند کیا‘‘ ۔یاسین ملک نے کہا کہ 1988 میں شروع ہونے والا عوامی انقلاب دراصل 1931 میں شروع کردہ تحریک کا ہی تسلسل ہے اور آج بھی وہی جدوجہد جاری ہے جسے ظالم بھیس بدل کر دبانے میں منہمک ہیں۔تحریک حریت چیئرمین محمد اشرف صحرائی نے شہداء کو خراج عقیدت ادا کرتے ہوئے کہا کہ جموں کشمیر کے عوام اگرچہ صدیوں سے غیروں کی غلامی پر بزور طاقت مجبور کئے گئے لیکن 13؍جولائی 1931 کو جموں کشمیر کے عوام نے شخصی نظام، مطلق العنان حکمرانی، جبرواستبداد اور غیروں کی غلامی سے نجات حاصل کرنے کے لیے اپنی جدوجہد کا آغاز کیا اور تب سے اب تک ہماری قوم برسرِ جدوجہد ہے۔ انہوں نے کہا کہ 13؍جولائی 1931 کی تاریخ کشمیر اور تحریکِ آزادی کے لیے سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔جموں کشمیر ہائی کورٹ بار ایسو سی ایشن سرینگر نے شہداء کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہاہے کہ شہادتوں کا یہ سلسلہ آج بھی جاری ہے اور لوگوں کو جیلوں کی سلاخوں میں ڈالاجارہاہے ۔ بار نے قربانیوں کو یاد کرتے ہوئے کہاکہ ان شہیدوں کے مشن کو آگے بڑھایاجائے اور مسئلہ کشمیر کو عوام کے  منشا اور اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حل کیاجائے جن پر پچھلے ستر سال سے عمل درآمد ہونے کا انتظار کیاجارہاہے ۔پیپلزپولٹیکل فرنٹ کے سرپرست فضل الحق قریشی اورچیرمین محمد مصدق عادل نے خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ ہمارے اسلاف نے کس قدر اپنی جانوں کی پروا کئے بغیر حق و صداقت کی آواز پرلبیک کہہ کر آمرانہ راج اور جابرانہ سوچ کے خلاف میدانِ عمل میں سینہ سپر ہوکر ناقابل فراموش تاریخ رقم کی اور اس طرح اپنی آنے والی نسلوں کیلئے جہدِ آزادی کی راہ کا تعین کیا۔ نیشنل فرنٹ نے 1931 کے شہید وں کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ سینٹرل جیل کے باہر جن آزادی کے متوالوں نے13جولائی1931کو اپنا گرم لہو پیش کیا اُن کا اُدھورا مشن آگے لیجانے کا سفر جاری رکھا جائے گا۔لبریشن فرنٹ( آر ) کے سرپرست اعلیٰ بیرسٹر عبدالمجید ترمبو ،ایڈوکیٹ ایوب راٹھور اور وجاہت بشیر قریشی نے خراج عقیدت ادا کرتے ہوئے اس بات کا اعادہ کیا کہ قوم ان کے نقش پا کی تقلید میں مشن برائے آزادی جاری رکھیں گے اور اسے اس کے حتمی انجام تک پہنچاکر ہی دم لیں گے ۔مسلم کانفرنس کے اہتمام سے ایک دعائیہ مجلس منعقد ہوئی جس کی صدارت قائمقام صدر جہانگیر غنی بٹ نے کی۔ انہوں نے کہا کہ31کے شہداء نے قوم کے دلوں میں جذبہ حریت کو اجاگر کردیا اور یوں تحریک آزادی کی داغ بیل ڈالی اور مسلم کانفرنس کی تشکیل پایہ تکمیل کو پہنچی ۔ میٹنگ میں جن قائدین نے شرکت کی اُن میں عبد الرحمان بٹ، عبد الرشید اونتو، محمد شفیق اویسی، زبیر منہاس اور علی حیدر کے علاوہ دیگر پارٹی لیڈران اور کارکنان نے شرکت کی۔ جموں کشمیر پیپلز مومنٹ نے خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان شہداء کی عظیم قربانیوں کا مقصد تب تک حاصل نہیں ہو سکتا جب تک جموں کشمیر کے عوام اپنا پیدائشی حق حقِ خود ارادیت حاصل نہیں کر لیتے۔ تنظیم کے چیئرمین میر شاہد سلیم نے پارٹی کی جانب سے 13جولائی 1931 کے حوالے سے منعقد ہ ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ 13جولائی 1931کو ڈوگرہ سامراج کے ہاتھوں شہادت کا جام نوش کرنے والے جیالے فرزندانِ وطن دراصل جموں کشمیر کی اس تحریکِ آزادی کا ہراول دستہ تھے جو آج بھی پورے شدو مد کے ساتھ جاری و ساری ہے۔ محاذآزادی کے ایک دھڑے کے صدر محمد اقبال میر نے خراج عقیدت ادا کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے ظالم حکومت کے خلاف شروع کی گئی تحریک کو اپنے گرم خون سے پروان چڑھایا جس کے نتیجے میں شخصی راج کا خاتمہ ہوا ۔تحریک کشمیر کے صدر محمد موسیٰ نے خراج عقیدت ادا کرتے ہوئے کہا کہ ’ہم ان شہداء کے مرہون منت ہیں ‘۔انہوں نے کہا کہ بے شک اُن کی شہادت کا قرض ہم تنازعہ کشمیر کو اسکے تاریخی پس منظر میں حل کرکے ہی ادا کر سکتے ہیں۔پیپلز لیگ کے چیئرمین ایڈوکیٹ بشیر احمد طوطا نے خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ 31 کے شہداء نے اپنی قیمتی جانوں کا نذرانہ پیش کرکے ڈوگرہ شاہی کو یہ پیغام دیا کہ یہ قوم ایک لمبی نیند سے جاگ اْٹھی ہے اور تب تک آرام کا سانس نہیں لے گی جب تک اپنی اس سرزمین کو آزاد نہیں کرتے۔ حریت(جے کے)کے کنوینر اور مسلم کانفرنس کے چیئر مین شبیر احمد ڈار، ماس مومنٹ سربراہ فریدہ بہن جی اور پیروان ولایت کے سربراہ مولانا سبط محمد شبیر قمی نے خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ رواں جدوجہد اُسی تحریک کا تسلسل ہے۔ڈیمو کریٹک لبریشن پارٹی کے چیئرمین ہاشم قریشی نے1931 کے شہداء کو عقیدت کے پھول نچھاور کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے شخصی راج کے خلاف جان کی قربانی دے کر پورے قوم کو خود مختار انہ زندگی گذارنے کی تحریک دی۔ 
 

گورنر ،ڈاکٹر فاروق،عمراور محبوبہ کا ہدیۂ عقیدت

ریاست رواداری اور بھائی چارے کی ایک مثال

لوگ امن اور خوشحالی کیلئے مل کر کام کریں :گورنر

سری نگر//گورنر این این ووہرا نے تمام سیاسی اور مذہبی جماعتوں کے لیڈروں کے علاوہ سماجی انجمنوں اور ریاستی عوام سے کہا ہے کہ وہ تمام اختلافات بھلا کر ریاست جموں وکشمیر کو ملک کی پُر امن اور خوشحال ریاست بنانے کے لئے یک جٹ ہو کر کام کریں۔یوم شہداء کے موقعہ پر اپنے ایک پیغام میں گورنر نے کہا کہ ریاست کا ایک شاندار ماضی رہا ہے اور یہ ریاست رواداری اور بھائی چارے کی ایک مثال ہے۔ انہوں نے لوگوں سے تلقین کی کہ وہ ریاست میں امن کی بحالی اور ترقی و خوشحالی کے لئے کام کریں۔
 

خون کا ایک ایک قطرہ ہم پر قرض:ڈاکٹر فاروق/عمر

سرینگر//نیشنل کانفرنس صدر ڈاکٹر فاروق عبداللہ ، نائب صدر عمر عبداللہ نے یوم شہدائے کشمیر کے موقع پر کہا ہے کہ شہدائے کشمیر کی دی ہوئی قربانیوں کی روشنی میں ہمیں اپنے مستقبل کیلئے عزم، ایثار اور بے لوث خدمت کا اعلیٰ معیار قائم کرنے کی ضرورت ہے۔ڈاکٹر فاروق نے کہا کہ آزادی سے قبل شخصی راج کے خلاف جدجہد میں عوام نے بے پناہ ہمت اور جوانمردی کا مظاہرہ کیا اور یہ قربانیاں اُسی جذبے کی علامت ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اُن کے خون کا ایک ایک قطرہ ہم پر قرض ہے۔ نائب صدر عمر عبداللہ نے کہا ہے کہ شہداء کی قربانیوں کی وجہ سے ہی ریاست جموں وکشمیر کے عوام کو جمہوری حقوق نصیب ہوئے ہیں۔ اُن کی ترقی کیلئے نئی راہیں کھل گئی ہیں۔پارٹی کے جنرل سکریٹری علی محمد ساگر اور معاون جنرل سکریٹری ڈاکٹر شیخ مصطفی کمال نے کہا ہے کہ شہداء کے مشن کو آگے لیجانے کیلئے متحدرہ کر کام کرنے کی ضرورت ہے۔ 
 

ریاستی تاریخ کا سنہری باب:محبوبہ

سرینگر//سابق وزیراعلیٰ اور پی ڈی پی صدر محبوبہ مفتی نے خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کی قربانی جموں وکشمیر کی تاریخ کا سنہری باب ہے۔ اپنے ایک پیغام میں سابق وزیراعلیٰ نے کہا کہ 1931کے جیالوں نے اپنی قربانی دے کر ریاست میں انصاف ، آزادی اور برابری کے نظام کی بنیاد ڈالی اور ان کی قربانیوں کی حفاظت اور عزت کرنا ہر شہری کی ذمہ داری ہے۔محبوبہ مفتی نے کہاکہ 1931کے شہداء کو خواب ایک جمہوری ریاست کا قیامت تھا جس کے لئے انہوں نے اپنی جانیں نچھاور کیں۔ 
 
 

 قوم 1931 کے شہداء کے اہداف کو حاصل نہ کرسکی ـ:حکیم یاسین

سرینگر/پی ڈی ایف کے سربراہ حکیم محمدیاسین نے خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ قوم اُن شہداء کی بیش بہا قُربانیوں کی مرہونِ مِنت ہے۔حکیم یاسین نے افسوس کا اظہار کیا ہے کہ قوم 1931 سے لیکر آج تک بھی اُن اہداف کو حاصل نہ کرسکی ہے جن کے حصول کیلئے اُن شہداء نے اپنی جانوں کی قربانیاں پیش کی تھیں۔ اُنہوں نے کہا ہے کہ یہ ناکامی سارے قوم خاصکر ریاست میں برسرِپیکار سیاسی و سماجی جماعتوں کیلئے تازیانہ عبرت ہے جن کے سُپرد قوم کی رہنمائی تھی۔ اُنہوں نے مزید کہا کہ قوم تب تک 13جولائی 1931کے شہداء کی قرضدار رہے گی جب تک نہ شہداء کے مِشن اور مقاصد کو حاصل کرپائیںگے۔
 

تعطیل ختم کی جائے،جموں بارکا مطالبہ

سرینگر/یو ا ین آئی/ جموں وکشمیر ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن (جموں) نے ایک متنازعہ بیان میں کہا ہے کہ 13 جولائی 1931 کو کچھ سماج دشمن عناصر نے لوگوں کو فرقہ وارانہ تشدد پر اکسایا تھا۔ بار ایسوسی ایشن جموں نے 13 جولائی (یوم شہدائے کشمیر) کی سرکاری تعطیل کو ختم کرنے کے مطالبے کو لیکر جمعہ کو صبح دس بجے جموں وکشمیر ہائی کورٹ جموں کے سامنے دھرنا دینے کا اعلان کیا ہے۔ بارکے جنرل سکریٹری ایڈوکیٹ پریم سدھوترا کی طرف سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے ’’جموں وکشمیر ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن جموں 13 جولائی کو یوم شہداء کے طور پر منانے کے جموں وکشمیر حکومت کے فیصلے کے سخت خلاف ہے۔ دراصل 1931 میں آج ہی کے دن کچھ سماج دشمن عناصر نے لوگوں کو فرقہ وارانہ تشدد پر اکسا کر وادی کشمیر میں موجودہ ماحول کی بنیاد ڈالی تھی‘‘۔ بیان میں کہا گیا ’ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن جموں نے 13 جولائی کو ورکنگ ڈے قرار دینے کے اپنے مطالبے کو منوانے کے لئے 13 جولائی 2018 کو ہائی کورٹ جموں کے سامنے دھرنے کا اہتمام کرنے کا فیصلہ کرلیا ہے۔ ایڈوکیٹ سدھوترا نے مزید کہا’ ’ایسوسی ایشن نے13 جولائی 2018 ء کو فری لیگل مشاورتی کیمپ منعقد کرنے کا فیصلہ کرلیا ہے۔ اس کا مقصد 13 جولائی کو ورکنگ ڈے کے طور پر منانا ہے‘‘۔
 
 

مشن سے وفا کرنا قوم کی ذمہ داری:مذہبی جماعتیں

سرینگر//جمعیت ہمدانیہ کے سربراہ مولانا ریاض احمد ہمدانی نے خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ اُن پاک باز اور جانثاروں نے کشمیری  عوام کو صدیوں کی شخصی راج کی غلامی سے چھٹکارا دینے کی خاطر اپناگرم گرم خون بہا کر جام شہادت نوش کیا۔ اس طرح سے کشمیری عوام شخصی راج کے ظلم وستم اور جبر واستبداد سے نجات دلایا اور اہل کشمیر کی عزت نفس ، خدا اعتمادی اور خود اعتمادی کی خاطر قربانی دی۔انہوں نے کہا کہ یہ دن ہمارا قومی دن ہے جس دن تحریک کشمیر کی بنیاد پڑی اور انہوں نے اپنا وعدہ پورا کیا اور اب اُن کے مشن سے وفا کرنا ہماری ذمہ داری ہے۔انجمن حمایت الاسلام کے صدر مولانا خورشید احمد قانونگو نے 1931کے شہداء کو خراج عقیدت پیش کیا ہے۔ مولانا قانونگو نے کہا کہ شہداء نے اپنا گرم گرم لہو اہل کشمیر کے پیدائشی حقوق کیلئے نچھاور کیا اور یہ سلسلہ آج بھی جاری ہے۔ انہوںنے کہاکہ آج بھی کتنے لوگ ایسے ہی جو تحریک نوازی کا دعوی کرتے ہیں لیکن اقتدار کی بھوک نے انہیں بھی استصواب رائے کا نعرہ بالائے طاق رکھ کر میدان انتخابات میں اتر گئے۔ 
 

کشمیریوں کو جینے کا ہنر سکھایا:اکنامک الائنس

سرینگر// کشمیر اکنامک الائنس نے 13جولائی 1931کے شہداء کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ ان کی قربانیوںکوکسی بھی صورت میں فراموش نہیں کیا جائے گا۔ کشمیر اکنامک الائنس کے شریک چیئرمین فاروق احمد ڈارنے کہا کہ انہوںنے کشمیر ی قوم کو سربلند ہو کرجینے کا سبق سکھایا اور ان کی شروع کردہ تحریک آزادی آج تک زندہ ہے ا ور قوم نے اس تحریک میںشامل ہوکر اپنی جانوں کے نذرانے پیش کئے ۔