تازہ ترین

تمام صارفین کو سمارٹ میٹر کے دائرے میں لایا جائیگا

ریاستی انتظامی کونسل کی میٹنگ، جنگلاتی اراضی کے استعمال کو منظوری

9 اگست 2018 (00 : 01 AM)   
(      )

نیوز ڈیسک
 سری نگر//ریاستی گورنر این این ووہرا کی صدارت میں ریاستی انتظامی کونسل کی میٹنگ میں بجلی کی ترسیل اور تقسیم کاری کے عمل کے دوران نقصانات کو کم کرنے کیلئے 9.25 لاکھ الیکٹرانک میٹر حاصل کرنے کو منظوری دی ہے تا کہ ریاست کے دیہی اور شہری علاقوں میں تمام صارفین کو میٹر کے دائرے میں لایا جا سکے ۔ اس پر 282.15 کروڑ روپے کی لاگت آنے کا اندازہ ہے ۔ میٹنگ کے دوران میٹر حاصل کرنے کیلئے رورل الیکٹر سٹی کارپوریشن پاور ڈسٹری بیوشن کمپنی لمٹیڈ کو میٹر فراہم کرنے کیلئے بھی منظوری دی گئی ۔کونسل نے میٹر ریڈنگ حاصل کرنے اور بل تیار کرنے کیلئے 61.32 کروڑ روپے کی تخمینہ لاگت کو بھی منظوری دی ۔ اس کے علاوہ ریاست کے مرکزی قصبوں اور دیہی علاقوں کیلئے دو لاکھ سمارٹ میٹر حاصل کرنے کیلئے 126.54 کروڑ روپے کی لاگت کو بھی منظوری دی گئی ۔ ریاستی انتظامی کونسل نے ریاست میں 140.55 کروڑ روپے کی تخمینہ لاگت سے سمارٹ گرڈ پروجیکٹ کی عمل آوری کیلئے پاور گرڈ کارپوریشن آف انڈیا کی خدمات حاصل کرنے کو منظوری دی ۔ریاست کے 19 قصبوں /صنعتی علاقوں میں سمارٹ گرڈ پروجیکٹ کی عمل آوری کا کام پی جی سی آئی ایل کو سونپا جا رہا ہے ۔ادھر ریاستی انتظامی کونسل میٹنگ میں ریاست کی مختلف حصوں میں 18.53ہیکٹر جنگلاتی اراضی کو ترقیاتی کاموں میں استعمال میںلانے کے منصوبوں کو منظوری دی گئی۔یہ منصوبے چیف سیکرٹری کی صدارت میں فارسٹ ایڈوائزری کمیٹی کی 19جولائی 2018ء کو منعقد ہ 109میٹنگ کے دوران منظور کئے گئے تھے۔منصوبوں میں 0.023ہیکٹرجنگلاتی اراضی کو بانڈی پورہ فارسٹ ڈویژن میں فوج کی طرف سے داور گری سن میں واٹر سپلائی سکیم تعمیر کرنے کے لئے بروئے کار لانا شامل ہے۔ترسیلی سیکٹر میں منظور کئے گئے منصوبوں میں 220کے وی ڈبل سرکٹ امر گڈھ ۔واگورہ ترسیلی لائنوں کی الانمنٹ میں حائل رکاوٹوں کو دور کرنا شامل ہے ۔علاوہ ازیں 7.2765ہیکٹر جنگلاتی اراضی132کے وی ڈی سی رام بن سے سنگل دان ترسیلی لائن بچھانے کے کام میں لانے کو منظوری دی گئی۔ ایس اے سی کی طر ف سے منظور کئے گئے پن بجلی سیکٹر کے منصوبوں میں اچو منی ہائیڈل پروجیکٹ کو بڑھاوا دینے کے لئے اضافی 1.094ہیکٹر جنگلاتی اراضی کو استعمال میں لانا اور ماور ۔ اہلن منی پروجیکٹ کو بڑھاوا دینے کے لئے 5.0ہیکٹراراضی کو جیکیڈا کی طرف سے استعمال میں لانے کو بھی منظوری دی گئی۔