تازہ ترین

آئی اے ایس افسر شاہ فیصل سرخیوں میں

بھارت کیلئے ’ریپستان ‘ لفظ استعمال کرنے پر تحقیقات کا سامنا

12 جولائی 2018 (00 : 01 AM)   
(      )

یو این آئی
سری نگر// جموں وکشمیر حکومت نے 2010 بیچ کے آئی اے ایس ٹاپر شاہ فیصل کے خلاف محکمانہ تحقیقات شروع کردی ہے۔ شاہ فیصل جو اس وقت سٹیڈی لیو پر امریکہ میں ہیں، پر الزام ہے کہ انہوں نے اپنے ایک ٹویٹ میں بھارت کے لئے ’ریپستان ‘کا لفظ استعمال کیا ہے۔ فیصل نے رواں برس اپریل کے اواخر میں انگریزی روزنامہ ’ٹائمز آف انڈیا‘ میں شائع ہونے والی ایک خبر اپنے ٹویٹر اکاونٹ پر ٹویٹ کی تھی جس کی سرخی کچھ یوں تھی : ’فحش فلموں کے عادی نوجوان نے اپنی 46 سالہ ماں کے ساتھ ریپ کیا۔ گجرات میں گرفتار کرلیا گیا‘۔ کشمیری آئی اے ایس افسر نے بعدازاں اس خبر کو ری ٹویٹ کرتے ہوئے لکھا تھا ’پدرانہ نظام پلس آبادی پلس ناخواندگی پلس شراب پلس پورن پلس ٹیکنالوجی پلس انارکی از اکول ٹو ریپستان‘۔ اس ٹویٹ اور ری ٹویٹ کے قریب 75 روز بعد ریاستی حکومت نے حکومت ہندوستان کے محکمہ پرنسل اینڈ ٹریننگ کے کہنے پر شاہ فیصل کے خلاف محکمانہ تحقیقات شروع کردی ہے۔ محکمانہ تحقیقات کے حکم نامے میں کہا گیا ہے کہ شاہ فیصل اپنے فرائض کی انجام دہی کے دوران مطلق ایمانداری اور دیانتداری کو نبھانے میں ناکام ثابت ہوئے ہیں۔ فیصل نے منگل کے روز ’محکمانہ تحقیقات‘ کا حکم نامہ جو انہیں بذریعہ ای میل موصول ہوا ہے، کو ٹویٹر اور فیس بک پر پوسٹ کرتے ہوئے لکھا ’ جنوبی ایشیا میں ریپ کلچر کے خلاف طنزیہ ٹویٹ کے لئے مجھے میرے باس کی طرف سے لو لیٹر موصول ہوا ہے۔ ستم ظریفی یہ ہے کہ ضمیر کی آزادی کا گلا گھونٹنے کے لئے جمہوری ہندوستان میں کولونیل دور کے سروس رولز کا استعمال کیا جاتا ہے۔ میں یہ (لو لیٹر) اس لئے شیئر کررہا ہوں تاکہ سروس رولز میں تبدیلی کی ضرورت کو اجاگر کیا جاسکے‘۔ محکمانہ تحقیقات کے حکم نامے میں کہا گیا ہے کہ حکومت ہندوستان نے ایک مکتوب کے ذریعہ شاہ فیصل کے خلاف کاروائی کا مطالبہ کیا ہے۔ بتادیں کہ شاہ فیصل سن 2010 بیچ کے آئی اے ایس ٹاپر ہیں۔ سماجی رابطوں کی ویب سائٹس پر متحرک شاہ فیصل اس وقت سٹیڈی لیو پر امریکہ میں ہیں جہاں وہ ہارورڈ کینیڈی سکول میں ماسٹرس کی ڈگری حاصل کررہے ہیں۔ وہ سٹیڈی لیو پر جانے سے قبل جموں وکشمیر سٹیٹ پاور ڈیولپمنٹ کارپوریشن لمیٹڈ کے مینیجنگ ڈائریکٹر تھے۔ دریں اثنا نیشنل کانفرنس کے نائب صدر اور سابق وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ شاہ فیصل کی حمایت میں کھل کر سامنے آگئے ہیں۔ انہوں نے اپنے ایک ٹویٹ میں کہا ’ایسا لگتا ہے کہ ڈیپارٹمنٹ آف پرسنل اینڈ ٹریننگ (حکومت ہند) نے شاہ فیصل کا پیچھا کرنے پر بضد ہے۔ صفحے (محکمانہ تحقیقات کے حکم نامے) کی آخری سطر افسوسناک اور ناقابل قبول ہے۔ اس میں فیصل کی ایمانداری اور دیانتداری پر سوال کھڑا کیا گیا ہے۔ ایک طنزیہ ٹویٹ بے ایمانی کیسی ہوسکتی؟ یہ (ٹویٹ) اسے کیسے کرپٹ بناسکتا؟‘۔