تازہ ترین

کمبد لن شوپیان میں خونین معرکہ آرائی، 2جنگجواور طالب علم جاں بحق

جونیئر کمیشنڈ آفیسر سمیت2فوجی زخمی، پُرتشدد احتجاجی مظاہروں میں 123زخمی

11 جولائی 2018 (00 : 01 AM)   
(      )

شاہد ٹاک
 شوپیان//جنوبی ضلع شوپیان کے مضافاتی گائوں کمبد لن میں خونین معرکہ آرائی اور عوامی مزاحمت کے دوران 2جنگجو اور ایک16سالہ طالب علم جاں بحق جبکہ فوج کے ایک جونیئر کمیشنڈ آفیسر سمیت 2اہلکار شدید زخمی ہوئے۔تصادم آرائی کے دوران 123افراد مضروب ہوئے جن میں سے 14کو سرینگر منتقل کردیا گیا۔

جھڑپ کیسے ہوئی؟

 جنوبی ضلع شوپیان میں اُس وقت جنگجوئوں اور فوج وفورسز کے درمیان جھڑپ شروع ہوئی ،جب گائوں میں آپریشن کیا گیا۔فوج وفورسز کو اطلاع ملی تھی کہ جنگجوئوں کا ایک گروپ مذکورہ گائوں میں موجود ہے ،جسکے بعد 34آر آر ، پولیس کے سپیشل آپریشن گروپ  اور سی آر پی ایف نے منگل علی الصبح گائوں کا محاصرہ کیا ۔ گائوں کے تمام داخلی اور خارجی راستوں کو سیل کیا گیا،تاکہ جنگجو محاصرہ توڑ کر فرار نہ ہوسکے ۔ فورسز کی ایک مشترکہ پارٹی جب ایک مخصوص مقام کی طرف بڑھ رہی تھی ،تو یہاں موجود جنگجوئوں نے اُن پر اندھا دھند فائرنگ کی جس کے نتیجے میںایک جونیئر کمیشنڈ آفیسر اپنے ساتھی اہلکار سمیت گولیاں لگنے سے شدید زخمی ہوا اور دونوں کو بادامی باغ فوجی اسپتال منتقل کردیا گیا۔اسکے بعد طرفین میں شدید جھڑپ شروع ہوئی۔جو کئی گھنٹوں تک جاری رہی۔مکان کی طرف کئی مارٹر گولے داغے گئے اور جب ایک مکان تباہ ہوا تو جنگجو دوسرے مکان میں داخل ہوئے ۔ بعد میں اس مکان کو بھی بارودی مواد سے تباہ کردیا گیا۔جسکے نتیجے میں  2جنگجوجاں بحق ہوئے جبکہ یہاں دیگر کئی مکانوں کو بھی نقصان پہنچا ۔ تلاشی کارروائی کے دوران تباہ شدہ مکان سے دو جنگجو ئوں کی نعشیں برآمد کی گئیں۔جنگجوئوں میں سے ایک کی شناخت سمیر احمد شیخ ولد غلام محمد شیخ ساکن اویند راولپورہ شوپیان کے بطور ہوئی  جبکہ دوسرا جنگجو غیر ملکی تھا۔دونوں کا تعلق جیش محمد سے تھا۔بتایا جاتا ہے کہ سمیر احمد 14اپریل 2018کو جنگجوئوں کی صف میں شامل ہوا تھا۔انکی نمازہ جنازہ میں ہزاروں لوگ شریک ہوئے اور 6بار انکی نماز جنازہ ادا کی گئی۔

طالب علم کی ہلاکت

 کندلن شوپیان میں جب جنگجو ئوں اور فوج کے درمیان معرکہ آرائی شروع ہوئی،تو  گائوں کے نوجوان گھروں سے باہر نکل آئے اور انہوں نے فورسز پر پتھرائو شروع کیا۔اسکے ساتھ ہی آس پاس پڑوس کے درجنوں دیہات کی مساجد میں اعلان کروائے گئے جس کے ساتھ ہی نوجوانوں کی ٹولیاںسڑکوں پر نمودار ہوئیں ،جنہوں نے نعرہ بازی کرتے ہوئے انکائونٹر مخالف مظاہرے شروع کئے ۔نوجوانوں کی ٹولیوں نے جائے جھڑپ کی طرف نعرہ بازی کرتے ہوئے پیش قدمی کرنے کی کوشش کی ،جس دوران یہاں تعینات پولیس وفورسز اہلکاروں نے مظاہرین کو تتربتر کرنے کیلئے شدید ٹیر گیس شلنگ ،پیلٹ وفائرنگ کی ۔ انکائونٹر کے اختتام تک یہاں پُرتشدد جھڑپوں کے د و ر ا ن 123افراد زخمی ہوئے ۔زخمیوں میں6کوکو گولیاں لگیں۔ 25کو سرینگر منتقل کیا گیا جنہیں گولیاں اور پیلٹ لگے تھے۔تاہم  16سالہ تمثیل احمد خان  ولد خورشید احمدساکن وہیل شوپیان اسپتال لیجانے کے دوران راستے میں ہی دم توڑ بیٹھا۔ اسکے سر میں گولی لگی تھی ۔وہ آٹھویں جماعت میں زیر تعلیم تھا۔پر تشدد جھڑپوں کے دوران ضلع اسپتال شوپیان، پرائمری ہیلتھ سینٹر وہیل اورہر مین میں کل 123زخمی لائے گئے۔چیف میڈیکل آفیسر شوپیان نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا کہ کل 123زخمیوں کو لایا گیا جن میں سے 6کو گولیاں لگیں تھیں۔انہوں نے کہا کہ 25کو سرینگر منتقل کردیا گیا۔جونہی جاں بحق طالب علم کی میت آبائی گائوں پہنچائی گئی ،تو وہاں کہرام اور صف ماتم بچھ گئی ۔جاں بحق طالب علم کی نماز جنازہ آبائی گائوں میں ہی ادا کی گئی ،جس میں ہزاروں لوگوں نے شرکت کی ۔بعدازاں اُسے آبائی مقبرے میں سپرد لحد کیا گیا ۔شہری ہلاکت کا یہ واقعہ ایسے وقت میں ہوا جب پہلے ہی وادی کشمیر میں شہری ہلاکتوں پر غم وغصہ پایا جارہا ہے ۔7جولائی بروز سنیچر کولگام میں فورسز کی فائرنگ سے16سالہ طالب سمیت3افراد جاں بحق ہوئے تھے ۔جاں بحق افراد میں شاکر احمد کھانڈے ولد محمد حسین،ارشاد احمد ولد عبدالمجید اور عندلیب دختر علی محمد کی عمر،باالترتیب،22،20اور16تھی ۔