تازہ ترین

ہر بیماری کا علاج ہر مسئلے کاحل

سجدہ ریزی میں جو گزرے زندگانی ہے وہی

5 جولائی 2018 (00 : 01 AM)   
(      )

شفاء بتول۔۔۔۔ سری نگر
 نماز ایک بہترین روحانی غذا اور جسمانی ورزش ہے ،سستی اور کاہلی کے اس وقت میں نماز واحد ایسا طریقہ ہے جس سے اگر قاعدے اور ترتیب سے پڑھا جائے تو انسان کے غم اور دکھوں کا ازالہ ہوسکتا ہے ۔نماز کا پڑھنا جہاں جسمانی اعضاء کو خوشنما اور خوبصورت بناتا ہے ،وہیں نمازانسان کے باطن دل کو سکون وراحت دیتی ہے۔ مزیدبراں نمازی کا گردہ ،دماغ ،جگر،معدے ،ریڑھ کی ہدی اور سارے بلوط دانہ (glands)کو بھی فائدہ پہنچتا ہے ، غرض روح کی بالیدگی کے ساتھ ساتھ ہمارے جسم کو بھی نماز خوش وضع ،شائستہ اورحسین و جمیل بناتی ہے ۔نماز ایک ایساعمل ہے جس سے ہماری عمر بڑھتی ہے اور انسان مختلف النوع توانائیوں کا مالک بن جاتا ہے ۔انسان رات بھر سویا رہتا ہے، جس کی وجہ سے اس کے اعضاء بے حس،الکس او ر سست ہوجاتے ہیں ۔اس وجہ سے خون کی گردش بھی بھی سست پڑجا تی ہے، اس لئے اب ہمارے جسم کو ایک ایسی ورزش کی ضرورت ہے کہ انسان کا جسم پھر سے چست اور تندرست ہوجائے ۔ اس کے لئے ہمارے رب نے ہمیں سب سے پہلے تہجد کی نماز سے نوازا ہے ،پھر فجر کی نماز ،پھر کچھ وقت کے بعد اشراق کی نماز ،پھر چاشت اور اسی طرح آدمی جب اپنے کام میں مشغول ہوکر تھک ہار جاتا ہے تو پھر(دوپہر) کوظہر کی نماز ہوتی ہے ،پھر عصر ،مغرب یہاں تک کہ سونے سے قبل عشاء کی نماز کے ذریعہ ورزش پروگرام کا سلسلہ جاری رہتا ہے۔اس دوران انسان جو کچھ کھاتا پیتا ہے، وہ بھی اچھی طرح ہضم ہوجاتا ہے کہ انسان کو تندرستی کی ضمانت ملتی رہتی ہے ۔امراض قلب کے ماہر ڈاکٹروں نے ایک لمبے عرصے کے بعد دل کے مریضوں کے لئے ایک مخصوص ورزش تشکیل دی ،یہ ورزش کوئی کرتب نہیں بلکہ طریقۂ نماز ہے ۔ ظاہر ہے جب ہم نماز پرھتے ہیں تو جسم کے ہر حصے میں موثر ، مثبت اور متوازن حرکت ملتی ہے جس سے جسم کے ہر انگ تک خون کی گردش پہنچ جاتی ہے، مثلاًقیام کے دوران نیچے والے حصے کی طرف خون کا بہائو زیادہ رہتا ہے، اسی طرح رکوع میں جسم کے بیچ والے حصے کو طرف خون رواں دوراں رہتاہے اور سجدے میں اوپری حصہ ٔ بدن یعنی سر آنکھوں اور چہرے کی طرف خون کی گردش تیز ہوجاتی ہے۔اس کے نتیجے میں انسان بہت سی بیماریوں سے محفوط رہتا ہے خاص طور امراض قلب کا خطرہ کم ہوجاتا ہے ۔ چند مثالیں ملاحظہ ہوں:
 
۱)ایک مشہور ڈاکٹر جوا عصابی کمزوری ،جوڑوں کے درد سے پریشان تھے، انہوں نے اپنے مرض کا علاج نماز کی مدد سے کیا۔لگاتار نمازی علاج و معالجہ سے وہ صحت یاب ہوگیا، یہاں تک کہ دوائیاں ترک کرکے وہ صرف نماز ہی سے اپنا علاج کرنے لگا اور پھر اپنے مریضوں کو بھی نماز پڑھنے کی تاکید  یں کیںاور ہر عمل کو پرہیز گاری ،آرام اور آسودگی کے مطابق کرنے کو کہتا  رہا۔اس طرح اس ڈاکٹر کے پاس آنے والے مریض بھی بہت جلدی تندرست ہونے لگے ۔
 
۲) پاکستان کا ایک مریض عارضہ قلب میں مبتلا تھا، اس نے ہر جگہ علاج کروایا مگر کچھ افاقہ نہ ہوا اور پھر وہ علاج کرانے آسٹریلیا چلے گئے اور وہاں کسی نامور ماہر قلب ڈاکٹر سے مشاہدہ کراکے دوائیاں لیں اور ڈاکٹر نے ایک ورزش کرنے کو کہا ۔ وہ ڈاکٹر اس مریض کو اپنے فزیو وارڈ میں لے گیا اور کہا کہ آپ کو یہ ورزش میری نگرانی میں آٹھ مہینے تک کرنی پڑے گی ۔وہ ورزش کیا تھی خشوع و خضو ع کے ساتھ نماز کی ادائیگی ۔یہ پاکستانی مریض اس ورزش کو جلدی سیکھ گیا تو ڈاکٹر حیران ہوا اور کہنے لگا کہ اب آپ پہلے مریض ہیںجنہوں نے اس ورزش کو اتنی جلدی سیکھ گئے ،جبکہ یہاں پر مریضوں کو یہ ورزش سیکھنے میں آٹھ مہینے لگ جاتے ہیں۔اس مریض نے کہا کہ میں مسلمان ہوں اور ہمارے دین میں یہ ہمیں دن میںپانچ بارادا کرنے کی تاکید کی گئی ہے ۔آپ کی ورزش کا طرز عمل بالکل ہماری نماز کی طرح ہے۔ڈاکٹر نے دوسرے ہی دن کچھ دوائیاں تجویز کرکے اسے رخصت کردیا اور تاکید کی کہ اس ورزش کو پابندی کے ساتھ کیا جائے ۔
 
۳)طارق احمد شاہ چغتائی اپنی کتاب میں لکھتے ہیں کہ میرا ایک دوست اپنا جسم پتلا کرنے کے لئے امریکہ چلا گیا ۔ڈاکٹر نے کہا کیا تم مسلمان ہو اور تمہارا علاج نماز ہے ،نماز انسان کے جسم کو خوبصورت ،سمارٹ،اور سڈول بناتا ہے، پھر اگر کوئی کمی رہ جائے تو تہجد بھی پڑھا کرو۔
 
۴)ماجد زماں عثمانی جو ایک ڈاکٹر ہیں یورپ میںفزیو تھراپی (جسمانی ورزش) مین اعلیٰ سند حاصل کرنے کے لئے گئے،وہاں انہیں بالکل نماز کی طرح ایک ورزش سمجھائی گئی اور سکھائی گئی تو وہ دیکھ کر حیران رہ گیا کہ ہم تو آج تک نماز کو صرف ایک دینی فرض کے بطور خدا وند کریم کا حکم سمجھ رہے تھے جب کہ یہاں تو اس کے بارے میں حیران کن تحقیقات ہیں کہ یہ ایک ایسی ورزش ہے جس سے بری بڑی بیماریوں کا علاج کیا جاسکتا ہے اور بیماریوں کو ختم کرنے کا ایک موثر زریعہ ہے ۔اس ڈاکٹر نے کچھ بیماریوں کی فہرست دی جو نمازی ورزش سے ٹھیک کی جاسکتی ہیں:-
 
دماغی بیماریاں ،آنکھ ،ناک اور گلے کی بیماریاں ،امراض قلب ،اعصا بی امراض،بے سکونی،بے چینی اور دیگر نفسیاتی امراض،نقرس (جوڑوں کا ورم)Arthritis, GawT,معدی زخم (Stomach Ulcer)ذیابیطس (Diabetes)۔ڈاکٹر بوستھن جوزف ایک مشہور امریکن ڈاکٹر تھے ۔ایک مذاکرے میں ان کے اسلام اور نماز کے بارے میں مشاہدات شائع ہوئے ،وہ اپنے تجربے میں لکھتے ہیں کہ نماز ایک کامل ،ہم آہنگ اور بالترتیب ورزش ہے اور اس کو تخلیق و ترتیب دینے والے کو شاید اآج کے تکلیف دہ اور مشینی دور کی خبر تھی جس کو خیال میں رکھ کر اس نے ایسی مکمل اور کسی کمی پیشی کے بغیر والی ورزش کو ترتیب دیا تھا ۔نفسیات کے ایک ماہر ڈاکٹر کہتے ہیں کہ میرے پاس ایک مریض آیا جو نفسیات کا ہر ممکن علاج کرواچکا تھا مگر اُسے کچھ افاقہ نہ ہوا ،میں نے اس سے کہا کہ تو نماز تہجد سے لے کر نماز اوابین،اشراق ،واجب ،نفل فرض،سنت سب نماز یں خشوع و خضوع ،آداب کا لحاظ رکھ کر ادا کرو ،تم ٹھیک ہوجائو گے ۔موسوف کہتے ہیں کہ جب وہ مریض عرصے بعد میرے پاس آیا تو 70فیصد ٹھیک ہوچکا تھا ۔وہ ڈاکٹر سے کہنے لگے کہ اگر لوگوں کو پتہ چل جائے کہ خشوع و خضوع والی نماز میں کتنا آرام اور سکون ہے تو وہ اپنے کام چھوڑ کر ایسی نمازیں پڑھنے لگا کہ دنیا کو بھول جائیں گے ۔
 
Comfort centre of Franceکے ایک ڈاکٹر Dr Alexander کے مطابق ہم نے اسلام میں خود کشی کا عمل بہت ہی کم پایا اور جب ہم نے تحقیق سے اس کی وجہ کا پتہ لگایا تو معلوم ہوا وضو اور نماز سے جس سے انسان سب کچھ بھول کر صرف ایک چیز پہ دھیان دیتا ہے یا اپنی توجہ مذکور کرتا ہے تو اس سے خود کشی کا رجحان نہ صرف کم بلکہ ختم ہی ہوجاتا ہے ۔اسی centreمیں جب انہوں نے خود کشی کی طرف متوجہ لوگوں کو ایک قسم کا استغراق کروایا جو نہ صرف نماز سے میل کھاتا تھا بلکہ اس میں خشوع و خضوع اور دھیان صرف عامل کی طرف رکھنا وغیرہ جیسی حالت بھی شامل تھی تو کچھ مدت کے بعد یہ دیکھا گیا کہ مریض نہ صرف ٹھیک ہوگئے بلکہ ان کو خود کشی سے نفرت بھی ہوگئی ۔Research in the Phenomenon of Spiritualismایک مشہور کتاب ہے، اس میں لکھا گیا ہے کہ انسان نفسیاتی امراض کا شکار تب ہوجاتا ہے جب اس کے اندر حسرتیں ،لالچ ،حسد،جلن ،نفرت اور کینہ بھر جاتا ہے اور یہ ایک ایسا روگ ہے جو انسان کو موت تک پہنچاتا ہے اور اگر ایسا انسان پابندی سے نماز پڑھے تو اس سے بچ سکتا ہے ۔
 
نماز اور جگہ کا پاک ہونا :کیونکہ نماز ہمیں پاکی سکھاتی ہے ،طہارت کی طرف مائل کرتی ہے تو نماز کی ادئیگی بھی ایسی جگہ ہونی چاہئے جو صاف و پاک ہو اور وہاں کسی بھی مرض کو پیدا کرنے والے جراثیم نہ ہوں۔اب جگہ کے صاف ہونے کے ساتھ ساتھ بدن کا پاک ہونا بھی ضروری ہے جو انسان نماز پڑھے یا مسجد میں نماز پڑھنے جاتے اور اس کا بدن اگر صاف نہ ہو تو یہ دوسرے نمازیوں کے لئے امراض پھیلانے کا زریعہ بن سکتا ہے ۔اسی لئے اللہ تعالیٰ نے نماز سے پہلے جسم کو صاف ہونے کو لازمی قرار دیا ہے تاکہ بیماریاں نہ پھیلیں ۔سرجری کے ایک مشہور داکٹر کا کہنا ہے کہ ہم نے طہارت ،جراثیم سے پاکی کا عمل اسلام سے سیکھا ۔نماز میں ترتیب کا ہونا ضروری ہے اور اگر اس ترتیب کو چھوڑ دیا جائے تو انسان کو نماز کے جسمانی فوائد سے محروم رہنے کے ساتھ ساتھ مریض بننے کا بھی خطرہ ہے ۔
 
نماز میں ہاتھوں کہنیوں تک اٹھانے کے فائدے :نماز میں ہاتھوں کو کانوں تک اٹھانا سنت ہے اور اس سے ہمارے گردن کنپٹیوں ،کندھے کے پٹھوں کی ورزش ہوتی ہے اور یہ ورزش قلب کے مریضوں کے لئے مفید ہے ۔اس ورزش سے انسان فالج کے خطرات سے بچ جاتا ہے ۔
 
نماز میں قیام کے فائدے:قیام کے دوران انسان کو کھڑا رہ کر اپنے دماغ کو اللہ کی عبادت لی طرف مرکوز و متوجہ کرنا پڑتا ہے، جب انسان اپنی توجہ اللہ کی عبادت کی طرف کرتا ہے تو چونکہ انسان تھکا ماندہ وپریشان ہوتا ہے ، اس سے دماغ اور جسم میں سکون کی کیفیت محسوس ہوتی ہے ۔نماز میں قیام سے انسان کے اندر ایک توازن بھی قائم ہوتا ہے ،قیام میں انسان جس طرح کھڑا رہتا ہے اگر روزانہ اس حالت میں تیس سے چالیس منٹ تک رہے تو دماغ ،اعصابی نظام میں ایک طاقت اور توانائی پیدا ہوجاتی ہے اور اس کے ساتھ ساتھ ہمارے جسم کی دفائی قوت اور قوت فیصلہ میں بھی اضافہ ہوتا ہے ۔ہمارے دماغ کا ایک حصہ جسر ہے جو مغز اعظم اور چھوٹے دماغ کو جوڑتی ہے اور ہمارے کام کاج اورہمارے جسم کی رفتار کو قابو میں رکھتی ہے ۔قیام سے اس حصے کو قوت ملتی ہے اور بہت ہی مہلک مرض جس میں انسان اپنا توازن ٹھیک نہیں رکھ پاتا ہے سے بچ جاتا ہے۔
 
ہاتھ باندھنا :نماز میں مرد بائیں ہاتھ کی کلائی کو دائیں ہاتھ سے پکڑ کر پیٹ پر باندھ دیتے ہیں ۔کلائی کو مضبوطی سے پکڑنے سے خون کا بہائو ہمارے ہاتھ کی طرف بڑھ جاتا ہے ہمارے ہاتھوں میں لچک خوبصورتی اور ایک توانائی پیدا ہوتی ہے جس سے ہمارے ہاتھوں کی صلاحتیں اُجاگر ہوتی ہیں۔عورتیں جب سینے پر ہاتھ باندھتی ہیں تو دل کے اندر ایک صحت بخش تمازت داخل ہوتی ہے اور اس تپش سے جسم کے وہ جوڑ بلوط دانے(Glands) نشو ونما پاتے ہیں جن کے اوپر بچوں کی خوراک منحصر ہے نماز پڑھنے والی عورتوں میں اس حرارت سے ایسا اثر پیدا ہوتا ہے کہ جب بچے دودھ پیتے ہیں تو ان کے اندر دماغ میں نقش بنتے ہیں جس کی وجہ سے ان کا فہم ا ور ذہانت بڑھ جاتی ہے۔حالیہ تجزیوں سے یہ بات سامنے آتی ہے کہ جب کوئی عورت سینے پر ہاتھ باندھ کر سکون سے ایک خاص قسم کا استغراق( Meditation) کرتی ہیں ( یعنی جب عوت نماز میں اللہ کی طرف اپنی توجہ مرکوز ر کرتی ہے) تو ڈاکٹروں کے مطابق اس وقت ایک کاص قسم کی نیلے یا سفید رنگ کی شاعیں پیدا ہوتی ہیں جو جسم کے اندر اباہر جاتی رہتی ہیں اور اس سے ہمارے دماغی نظام کو تقویت پہنچتی ہے اور قوت مدافت بڑھتی ہے اور ایسی عورت ہمیشہ خلیوں کے سرطان سے محفوظ رہتی ہے۔ہمار ے جسم کے دائیں اور بائیں طرف احوال الگ الگ ہیں۔ ہمارے دائیں حصے خاص کر ہمارے دائیں ہاتھ سے نہ دکھائی دینے والی اثباتی شاعیں نکلتی ہیں اور بائیں ہاتھ سے نہ دکھائی دینے والی منفی شاعیں نکلتی ہیں۔ نماز کے دوارن چونکہ دائیں ہاتھ بائیں ہاتھ کے اوپر ہوتا ہے تو بائیں ہاتھ کی مثبت شاعیں دائیں ہاتھ میں منتقل ہو کر اس کے منفی اثر کو ختم کرتی ہیں اور ہاتھوں میں طاقت لچک توانائی کا باعث بنتی ہیں جس کی وجہ سے انسان کا جسم توازن میں رہتا ہے اور پریشانی کم ہوتی ہے۔ یہاں تک بہت سارے ڈاکٹر دائیں ہاتھ کے فالج والے آدمی کو یہ ورزش کرنے کو ہتے ہیں کہ کچھ دیر بیٹھ کر دونوں ہاتھوں کوباندھیں اور بائیں ہاتھ کی شاعیں منتقل ہو تی رہیں اور قوت اور حرکت کا باعث بنیں۔
 
رکوع کے فائدے:رکوع کمر درد، ریڈھ کی ہڈی اور کئی بیماریوںکیلئے بہترین ورزش ہے ،خاص کر اس نوع کے مریض یہ ورزش کریں تو بہت جلد صحت یاب ہو جائیں گے۔ رکوع سے ٹانگوں کے فالج والے مریض چلنے پھرنے کے قابل ہو جاتے ہیں۔ رکوع ہماری Spinal Cordکو طاقت اور تقویت بخشتا ہے اور اس سے ہمارے دماغ اور آنکھوں کی طرف خون کا بہائو بڑھ جاتا ہے جس کی وجہ سے دماغ اور آنکھیں کئی امراض سے محفوظ رہتی ہیں۔ رکوع میں انسان کے ہاتھ نیچے کی طرف جاتے ہیں تو اس سے ہمارے کندھوں سے لے کر انگلیوں تک ورزش ہو جاتی ہے اور ہمارے پھٹوں میں قوت پیدا ہوتی ہے اور جو گندے مادے ہمارے جوڑوں میں جمع ہوجاتے ہیں وہ خودبخود نکل جاتے ہیں۔ رکوع سے ہمارے ہاضمے کا نظام درست ہوتا ہے، قبض دور ہوتی ہے، پیٹ اور آنتوں کے ریشوںکا ڈھیلہ پن ختم ہوتا ہے۔ کمر اور پیٹ کی چربی کم ہو جاتی ہے، گردوں میں پتھری بہت کم بنتی ہے اور رکوع میں نقل و حرکت سے گردوں میں پتھر والے مریضوں کی پتھری جلدی نکل جاتی ہے۔ رکوع میں چونکہ ہم دونوں ہاتھ گھٹنوں پر ایسے رکھتے ہیں کہ ہماری کمر سیدھی رہے اس وجہ سے ہمارادل و دماغ ایک سیدھ میں ہو جاتے ہیں۔ دل کو دماغ کی طرف خون پہنچانا آسان ہوتا جاتا ہے، اس وجہ سے نہ صرف د ل کو کم محنت کرنی پڑتی ہے، اس کو آرام بھی ملتا ہے اور دماغ کی ذہانت بھی تیز ہوتی ہے ۔ رکوع ورزش سے ہمارا کندھا ، کہنیاں ، کلائیاں، ٹخنوں میں لچک پر نرمی پیدا ہوتی ہے جس سے ان کی تحریک میں آسانی ہوتی ہے اور رکوع کے عمل سے ریڑھ کی ہڈی مضبوط ہوتی ہے ہمارے عصبوں(Nurmons) کو بھی بہت فائدہ پہنچتا ہے۔
 
ہمارا جسم کسی بھی حالت میں ہو ہمارے مغز کی طرف خون زیادہ نہیں جاتا ہے، سجدہ ایک ایسا عمل ہے جس میں خون کو بہائو دماغ اور دماغ کی نسوں آنکھوں اور سر کے باقی حصوں کی طرف زیادہ ہوتا ہے جس سے دماغ اور نگاہ کو تقویت پہنچتی ہے۔سجدے کے وقت ہم اپنا ماتھا زمین پر کھتے ہیں اور اس سے ہمارے دماغ سے نکلنے والی شاعیں زمین کے اندر سے نکلنے والی نہ دکھاتی دینی والی روئوں سے مل کر دماغ کی قوت کو کئی گناہ زیادہ بڑھا دیتی ہے۔ اسی وجہ سے دماغ کو سکون اور آرام ملتا ہے، جب دماغ آسودگی میں ہوگا تو معدے کی تیزابی رطوبتوں کو زیادہ نکلنے سے روکے گا، ایسے میں معدے کی تو شوشت ختم ہو جاتی ہے۔ اور ایسے مریض جن کو معدے میں جلن اور زخم کی شکایت ہوتو انکا زخم ٹھیک ہوجائے گا۔ سجدہ کے وقت چونکہ خون کا زیادہ بہائو اور دماغ کی طرف ہوتا ہے تو انسان کا دماغ خون سے ضروری اجزاء حاصل کرتا ہے اور فاسد عنصروں کو خون کے ساتھ گردوں کی طرف بیج دیتا ہے جو پیشاب کے ساتھ باہر نکل جاتے ہیںاور اگر ہم آرام، تحمل، خشوع و خضوع سے سجدہ کریں تو ہم دماغی امراض جیسے ڈپریشن، بے چینی، بے سکونی اور مایوسی سے محفوظ رہ سکتے ہیں۔ دماغی مریضوں کیلئے سجدہ بہت ہی مفید علاج ہے کیونکہ سجدہ دماغ کو پُر سکون حالت میں لے جاتاہے۔سجدہ میں چونکہ خون کا بہائو ، دماغ، چہرے، آنکھوں کی طرف ہو تا ہے اس سے چہرے پر جھریاں نہیں پڑھتی اور اگر ہوں تو ختم ہو جاتی ہیں، یاداشت تیز ہوتی ہے،عقل میں اضافہ ہوتا ہے، بند نزلہ کھل جاتا ہے،سردرد جیسی تکلیفوں سے نجات ملتی ہے جس کی وجہ سے بڑھاپا بہت دیرسے آتا ہے۔سجدے سے دونوں جنسی کمزوریاں دور ہو جاتی ہیں کیونکہ سجدے سے رانوں کو بیچ جو پھٹے ہیں ان کو خاص طاقت ملتی ہے۔
 
شیخ مولانا ذوالفقار نقشبندی فرماتے ہیں کہ میری ایک امریکی ڈاکٹر سے ملاقات ہوئی اور اس ڈاکٹر نے مجھے کہا کہ اگر عورتوں کو پتہ چلے کہ نماز میں لمبے سجدے کرنے کی وجہ سے چہرہ کتنا خوبصورت ، ہشاش بشاش ہو جاتا ہے تو وہ کبھی سجدے سے سر ہی نہیں اُٹھایں گے۔
 
سلام:۔سلام پھرتے وقت کیونکہ انسان دائیں بائیں دیکھنا ہے تو اس عمل سے انسان بہت کم دل کی بیماریوں میں مبتلا ہوتا ہے اور اس سے بچارہتا ہے۔ سلام سے گردن کے شریانوں اور پٹھوں اور ہمارے سینے کو طاقت ملتی ہے، ڈھیلا پن ختم ہوجاتاہے انسان خوش پُر سکون رہتا ہے۔ 
 
نماز اور معاشرہ:آج کے ماہر عمر انیات جب انسان کی سماجی زندگی کے بارے میں بات کرتے ہیں تو یہ بات سامنے آتی ہے کہ انسان ایک سماجی جانور ہے(Man is a Social Animal) یعنی کہ وہ دوسرے انسانوں کے ساتھ مل جل کررہنے پر مجبور ہے اور ہمارا اسلام بھی اسی چیز کی تعلیم و ترغیب دیتا ہے کہ اسلام میں رہبانیت نہیں بلکہ انسان کو معاشرے کے ساتھ رہ کر معاشرتی اجتماتی زندگی کا حصہ بننا ہے۔ ایک کامیاب سماج کے لئے ضروری ہے کہ اس میں انسان مل جل کر محبت اور سکون کے ساتھ رہیں، ایک دوسرے کے دکھ سکھ میں ساتھ دیں ۔ا سلام نماز کے ذریعے آدمی کو معاشرے میں معاشرتی اور سماجی زندگی کی ترغیب دیتا ہے۔ عزت کے ساتھ رہنے کا طریقہ سکھاتا ہے کہ ایک انسان خود کو معاشرے کو پاک وصاف رکھے تاکہ ہر شخص اس سے محبت کرے کیونکہ ایک گندے اور ناپاک انسان سے ہر کوئی گریز کرتا ہے۔ اسی بات کے پیش منظر اسلام نے پانچ وقت نماز باجماعت پڑھنے کی ترغیب دی بلکہ سختی سے اس کا حکم بھی دیا ہے۔ ذرا سوچئے جب ہم نماز کیلئے دن میں پانچ دفعہ جمع ہوںگے تو ایک دوسرے کے سے بات چیت ہوگی، ایک دوسرے کے دکھ سکھ کا علم ہوگیا پھر ایک دوسرے کی مشکلات اور مصائب حل کرنے کی کوش کی جائے گی۔ اس سے دوسرے کے دل میں ہمدردی ، فکرو الفت پیدا ہوگئی۔
 
آج مغربی دنیا نماز کو مراقبہ(Meditation) کا نام دے رہی ہے ہر جگہ (Meditation Centre) کھولے جاتے ہیں، مرد اور عورتوں دونوں وہاں جاتے ہیں، نماز جیسی ورزش کرتے ہیں جیسے کہ آنکھیں بند کرکے سب دکھ درد بھول جائو Relax Feelکرو، اب کبھی ہاتھ باندھوں اور توجہ ناف پہ رکھو، اسی طرح نماز کے عمل کی کئی ورزشیں ترتیب دی گئی ہیں، لوگ آتے ہیں پیسے دیتے ہیں اور احسان مند ہوتے ہیں کہ ہمیں آرام ملا، سکون ملا۔ ہم مسلمان اب خود اندازہ کریں کہ ہمیں اس رب کریم کا کتنا شکر گزار ہونا چاہئے کہ اس نے ہمیں نماز جیسی نعمت عطا کر کے ہر بیماری سے محفوظ رکھا اور اسی نماز میں ہر بیماری کاعلاج بھی مخفی رکھا۔ نماز میںروحانی امراض کیلئے بھی شفا ء ہے اور جسم کی بیماریوں کیلئے بھی شفاء ہے۔ نمازایک مکمل دوا ہے ہمارے جسم کیلئے بھی ، ہماری روح کیلئے بھی ۔اب یہ ہم پر منحصر ہے کہ ہم کتنے یقین ، خشوع و خضوع، تحمل ،انکساری اور نماز میں پورا دھیان دے کر اپنے رب کریم کی طرف مرکوز ہوکرکے یہ عبادت ادا کر تے ہیں۔ 