تازہ ترین

کتاب و سنت کے حوالے سے مسائل کا حل

29 جون 2018 (00 : 01 AM)   
(   صدرمفتی دارالافتاء دارالعلوم رحیمیہ بانڈی پورہ    )

مفتی نذیراحمد قاسمی
  سوال: آج کل شہر و دیہات میں شادیوں کا سیزن جاری ہے۔ ہماری شادی بیاہ کی تقاریب میں جہاں درجنوں بلکہ سینکڑوں خرافات سے کام لیا جاتا ہے وہاں ایک انتہائی سنگین بدعت پٹاخوں کا استعمال ہے۔ شام کو جب دولہا برات لے کر اپنے گھر سے روانہ ہو جاتا ہے تو وہاں پر اور پھر سسرال پہنچ کر پٹاخوں کی ایسی شدید بارش کی جاتی ہے کہ سارا محلہ ہی نہیں بلکہ پورا علاقہ لرز اُٹھتاہے اور اکثر لوگ اسے فائرنگ اور دھماکے سمجھ کر سہم جاتے ہیں۔ اس کے علاوہ بچوں، بزرگوں اور عام لوگوں کو پٹاخے سر کرنے سے جو انتہائی شدید کوفت اور پریشانی لاحق ہوجاتی ہے وہ ناقابل بیان ہے۔شرعی طور براہ کرم اس معاملے پر روشنی ڈالیں۔
خورشید احمد راتھر

شادی بیاہ پرپٹاخوں کا استعمال غیرشرعی

 
ل::شادیوں میں پٹاخے  سر کرنا اُن غیر شرعی اور حرام کاموں میں سے ایک سنگین و مجرمانہ کام ہے جو طرح طرح کی خرابیوں کا مجموعہ ہے اورشادیوں میں شوق اور فخر سے کئے جاتے ہیں ۔یہ غیر مسلم اقوام کی رسوم کی نقالی ہے  اور وہی مشابہت ہے جس مشابہت سے مسلمانوں کو اجتناب کرنے کا حکم ہے۔ حدیث میں ارشاد ہے جو مسلمان کسی دوسری قوم کی مشابہت اختیار کرے وہ انہی میں سے ہے(ابو دائود) اس پٹاخے اُڑانے کے عمل میں مال کو ضائع کرنا بھی شامل ہے جبکہ حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ اللہ تعالیٰ تم کو قیل و قال کثرت سوال اور اضاعت مال سے منع کرتا ہے۔(بخاری و مسلم)
 
پٹاخے سو سو روپے تک کی قیمت کے بھی بلکہ اس سے زیادہ کے بھی ہوتے ہیں۔ ظاہر ہے ان کو آگ لگا کر دھماکے کی آواز اور چنگاریاں برساتی ہوئی روشنی نکل کر چند لمحوں میں ختم ہوتی ہے اس کے علاوہ اور کچھ نہیں۔ تو یہ سراسر غیر شرعی جگہ اپنا پیسہ اڑانا ہے اس لئے بھی یہ حرام ہے پھر جب ان پٹاخوںسے ایسا دھماکہ ہوتا ہے جیسے کہیں فائرنگ ہورہی ہو۔اس سے چھوٹے بڑے سب سہم جاتے ہیں اور جن کو یہ معلوم نہ ہو کہ کہیں آس پاس میں شادی ہورہی ہے وہ سب فکر وتشویش اور پریشانی میں مبتلا ہوتے ہیںاور کسی کو فکر و پریشانی میں ڈالنا بھی حرام ہے۔اس کی وجہ سے کسی کا سکون غارت ہو جائے، کسی کے آرام میں خلل پڑ جائے،کسی کو ذہنی تکلیف ہو جائے تو اس لئے بھی یہ غیر شرعی اور غیراخلاقی ہے۔
 
یہ صوتی آلودگی (Noise Pollution)کے اسباب میں بھی داخل ہے اس لئے کسی مہذب معاشرے کے خلاف بھی ۔لہٰذا غیر انسانی طرز عمل ہے۔قرآن کریم میں ارشاد ہے: اللہ تعالیٰ بری بات کی اونچی آواز کوناپسند کرتا ہے۔یہ عقل اور حقیقت پسندی کے بھی خلاف ہے۔ آخر اس میں کیا معقولیت ہے کہ دولہے کے رخصت ہونے پر دھماکے کئے جائیں اور آتش بازیاں اور وہ بھی اس طرح کہ پورا علاقہ لرز جائے تو اس کا نفع کیا ہے ؟ ظاہر ہے کہ کچھ نہیں اس لئے جو کام دین، اخلاق، عقل اور عام تہذیب انسانی کے خلاف ہے وہ کیسے درست ہوسکتا ہے لہٰذا پٹاخوں اور بنگولوں کا یہ سلسلہ بند کرنا شریعت کا حکم ہے۔
 
سوال:۱-یہاں کشمیر میں ورتائو(گلہ میوٹھ) یا دست بوس کے نام سے جورسم جاری ہے جس میں مختلف اقسام کی اشیاء ،جن میں کچھ بہت قیمتی اور کبھی کچھ کھانے پینے کی چیزیں ہوتی ہیں ۔ اس ورتائو کے متعلق مفصل بحث اور تفصیلی حکم تحریر کرنے کی گذارش ہے۔اس میں یہاں کے علماء ،وکلاء اور محلہ کمیٹیوں کے ذمہ داران بھی کنفیوژن میں رہتے ہیں اور جب اس سلسلے میں فیصلہ کرنے بیٹھتے ہیں تو طرح طرح کے اختلافات سامنے آتے ہیں اور پھر یہ متعین نہیں ہوپاتا کہ اصل شرعی حکم کیا ہے ۔ اس لئے تفصیل کے ساتھ ’’کشمیرعظمیٰ‘‘ کے اس مقبول ومفید کالم میں جواب شائع فرمائیں۔
 
ریاض احمد بٹ قاسمی 
 

ــــورتائو : ہدیہ، تحفہ یا امانت ؟

 
ل:- دراصل’’ ورتائو یا گلہ میوٹھ‘‘ ایک ایسی رسم ہے جس کو شریعت کے کسی دائرے میں لانا ہی مشکل ہے ۔ اسے امانت نہیں کہہ سکتے ۔ اس لئے وہ استعمال کرنے ، خرچ کرنے یا کھانے کے لئے دیا جاتاہے ۔ جب تک امانت کو جوں کا توں واپس کرنا ضروری ہے ۔ اسے ہدیہ یا تحفہ کہنا بھی مشکل ہے ۔ اس لئے کہ اسے مزید اضافہ کے ساتھ واپس کرنا ضروری ہوتاہے اور اسی لئے اسے لکھ کر رکھنا ضروری سمجھا جاتاہے اور ادا نہ کریں یا اضافہ نہ کریں تو ناراضگی لازمی ہے جب کہ ہدیہ میں واپس لینے کی کوئی نیت ہی نہیں ہوتی وہ محبت پانے کے جذبہ سے دیا جاتاہے نہ کہ مادی عوض کی غرض سے تو یہ ہدیہ بھی نہیں ۔ اسے قرضہ کہنا بھی مشکل ہے اس لئے کہ یہ قرض کہہ کر نہ لیا جاتانہ دیا جاتاہے اور واپسی اگرچہ ضروری ہوتی مگر اس کے بدلے میں کوئی برتر چیز یا نسبتاً زیادہ رقم ۔لہٰذا یہ قرض بھی نہیں…اسے صدقہ بھی نہیں کہہ سکتے ۔اس لئے کہ صدقہ میں اجروثواب مقصود ہوتاہے اور واپس لینے کی نہ کوئی نیت ہوتی ہے نہ توقع اور صدقہ غریب سمجھ کر دیاجاتاہے۔جب یہاں ایسا بھی نہیں ہے ۔کیونکہ یہاں رشتہ داری کی وجہ سے دیا جاتا ہے نہ کہ غربت کی وجہ سے ۔اس صورتحال میں سب سے افضل یہ ہے کہ ورتائو کا یہ سلسلہ ختم کردیا جائے اور ہدیہ دینے کا سلسلہ شروع کیا جائے اور وہ یہ کہ اپنے اقارب احباب کو کسی بھی خوشی کے موقعہ پر اپنی وسعت کے بقدر کچھ بھی بطور ہدیہ دیں اور نہ تو اپنے ذہن میں رکھیں کہ یہ واپس نہیں ملیں گے اور نہ ہی بہی کھاتہ بنا کر رکھیں ۔ پھر وہ چاہیں تو کسی موقعہ پر ہدیہ دیں یا نہ دیں اور کم دیں یا زیادہ پہلے شخص کو نہ کوئی گلہ ہونہ شکوہ ۔ بس صرف یہ ایک شکل درست ہے ۔
 
سوال:-آج کل ہر جگہ رواج ہے کہ شادی کے موقع پر لڑکی والوں کے طرف سے بہت بڑی دعوت کا اہتمام کیا جاتاہے ۔دُلہا کے ساتھ کافی تعداد میں لوگ جاتے ہیں اور ان کے لئے قسم قسم کے پکوان پکائے جاتے ہیں ۔کئی لوگ اسے ضروری قراردیتے ہیں اوراُسے ولیمہ، جو سنت ہے، کے مترادف قرار دیتے ہیں ۔ براہِ کرم یہ فرمائیں کہ کیا لڑکی والے بھی ولیمہ کے نام پر دعوت کا اہتمام کرسکتے ہیں یا نہیں ؟ کیا ایسی دعوت میں شرکت کی جاسکتی ہے یا نہیں ؟ نیز یہ بھی فرمائیں کہ سنت کے مطابق شادی کا طریقہ کیاہے ؟
 
منظور احمد میر
 

ولیمے کی دعوت اور اس کے شرعی لوازم

 
ل:-ولیمہ اُس دعوت کو کہتے ہیں کہ جو شوہر اپنے گھر میں اپنے احباب ،اقارب اور ہمسایوں کو کھلائے ۔ یہ دعوت ولیمہ یقیناً مسنون ہے مگر اس میں کم از کم ان امور کی رعایت لازم ہے ۔ ۱۔کھانوں کا ایسا اسراف نہ ہوکہ کھانے والے اتنا کھا بھی نہ سکیں اور کھانا ضائع کیا جائے ۔۲۔ اس دعوت میں نام ونمود نہ ہو بلکہ ادائیگی سنت کی نیت ہو ۔۳۔ اس دعوت میں مردوزن کا غیر شرعی اختلاط نہ ہو۔ نہ غیر شرعی فوٹوگرافی یا ویڈیوگرافی ہو ۔۴۔اس دعوت میں حرام کمائی کی آمدنی شامل نہ ہو اور اگر کسی طرح سے یہ بات یقینی طور پر معلوم ہوجائے تو ایسی دعوت میں شریک ہونا جائز نہیں ۔۵ ۔دعوت کرنے والا اپنی مالی وسعت کی حدود میں رہ کر دعوت کرے ۔ ۶۔یہ دعوت فرائض کے چھوٹ جانے کا سبب نہ بنے ۔ مثلاً دعوت کی وجہ سے نمازیں چھوڑ دی جائیں جیساکہ مشاہدہ میں آیاہے ۔
 
سوال: کیا یہ صحیح ہے کہ حدیث میں یہ بیان ہوا کہ نکاح کرنا آدھا ایمان ہے۔ اگر یہ حدیث ہے تو اس کے الفاظ کیا ہیں اور نکاح آدھا ایمان کیسے ہے اس کی وضاحت کریں؟
 
عابد علی
 

نکاح نصف ایمان 

ل: یہ بات درست ہے کہ حضرت رسول اللہ صلی اللہ علی ہوسلم نے ارشاد فرمایا کہ نکاح  نصف دین ہے۔ چنانچہ اس حدیث کا ترجمہ یہ ہے۔
 
 حضرت رسول اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایاکہ مسلمان جب نکاح کرتا ہے تو اپنے نصف دین کو مکمل و محفوظ کرلیتا ہے۔ اب اس کو چاہئے کہ بقیہ نصف دین کے بارے میں اللہ کا تقویٰ اختیار کرے۔
 
اس حدیث کے متعلق حضرت شیخ عبد الحق محدث دہلوی نے شرح مشکوٰۃ میں فرمایا کہ انسان عموماً دو ہی وجہوں سے گناہ کرتا ہے، شرمگاہ اور پیٹ۔یعنی جنسی جذبات کی بناء پر اور کھانے پینے کی وجہ سے۔
 
جب نکاح کر لیا تو اب زنا،بدنظری، غیر محرم سے تعلقات قائم کرنے کے جذبہ سے محفوظ رہنا آسان ہو جاتا ہے۔ اب نظر کی طہارت، عفت و عصمت کی حفاظت، پاک دامنی اور حیائ، نظر اور خیالات کی یکسوئی اور غلط رُخ کے احساسات اور تخیلات سے بچائو حاصل ہونے کا سامان مل گیا تو دین کو تباہ کرنے والے ایک سوراخ کو بند کرنے کا موقعہ مل گیا۔ اب بقیہ نصف یعنی کھانے پینے کی وجہ سے جو گناہ ہوتے ہیں اُس کی فکر کرے۔ اس میں حرام دولت، چوری، رشوت ، دھوکہ،فریب اور ہر طرح غیرشرعی اکل و شرب شامل ہے۔   
 
سوال: نکاح میں لڑکے اور لڑکی کی مرضی کی کیا اہمیت ہیں۔ نیز گھروالوں کا کیا کردار ہے وضاحت کریں؟
 
طارق احمد خان
 

نکاح:مرضی کی اہمیت

ل:  نکاح کا تعلق جیسے لڑکے اور لڑکی کی ذاتی زندگی کے ساتھ ہوتا ہے۔ اسی طرح اس کا تعلق دونوں خاندانوں کے ساتھ بھی ہوتا ہے۔ اس لئے نکاح کے مکمل طور پر کامیاب ہونے اور ازدواجی زندگی کے ہر طرح خوشگوار بننے کیلئے ضروری ہے کہ لڑکے لڑکی بھی دونوں رضامندہوں اور اُن کے والدین بھی اس رشتہ پر خوش اور راضی ہوں۔ اگر خدانخواستہ کسی رشتے میں دونوں بچے خوش ہوں اور والدین ناراض ہوں تو خوشگواری کیسے آئے گی اور اگر والدین کسی ایسی جگہ رشتہ کرنے پر بضد ہوں جہاں لڑکا یا لڑکی آمادہ نہ ہوں تو بھی رشتہ کے کامیاب ہونے کے امکانات نہیں ہونگے۔ اسلئے شریعت اسلامیہ کا یہی حکم ہے اور عقل عام بھی یہی پسند کرتی  ہے کہ آپسی مفاہمت، رضامندی اور سبوں کی خوشی شامل ہو۔ اور جہاں بھی رشتہ ہو سبوں کی مشاورت اور دلی آمادگی کے ساتھ ہو۔ زیر نظر معاملے میں لڑکے اور اس کے اہل خانہ پر ضروری ہے کہ وہ اپنی ضد چھوڑ دیں یا تو والدین بچے کی چاہت مان لیں اور اپنی ضد چھوڑ دیں یا بچے اپنی بے جا ضدپر مصر رہے تو دونوں صورتوں میں آگے تلخیاں اور ناخوشگوار یاں پیدا ہوسکتی ہیں۔
 
والدین دور اندیشی کا رویہ اپنائیں اور یہ سوچیں کہ بچے کو آئندہ زندگی گذارنی ہے اسلئے ہم اپنی چاہت اس پر مسلط نہ کریں ایسی میں بہتری ہے اسی طرح بیٹا یہ سوچے کہ میرے والدین نے آج تک مجھے پالا پوسا۔ اور آئندہ مجھے ان کی ضرورت ہے اور ان کو میری ضرورت ہے لہٰذا ان کی پسند کو ملحوظ رکھنے میں ہی بہتری ہے دونوں طرف سے اگر ہٹ دھرمی اور بے جا اکڑ قائم رہی تو آئندہ دونوں کو سخت تلخیوں بلکہ نزاعات کا سامنا کرنے کیلئے تیار رہنا پڑیگا۔
