تازہ ترین

گھر آنگن کی چاندنی!

بہو کے مبارک قدم پڑے گھر میں اب کے

17 نومبر 2016 (00 : 01 AM)   
(      )

ڈاکٹر سید فاضل حسین پرویز
اور الحمدللہ! میرے گھر ایک دن کے وقفہ سے دو دو بہو آگئیں۔
اس مبارک لمحوں سے بہت پہلے بہت سارے اندیشے، وسوسے، پیدا ہوتے رہے کہ بہو (بہوئوں) کے گھر میں قدم رکھنے کے بعد آیا گھر کی رونقیں دوبالا ہوںگی یا کچھ عرصہ بعد گھر ویران ہوںگے۔ اپنے اطراف و اکناف کے ماحول میں عزیز و اقارب کے آئے دن ساس بہو کے جھگڑوں سے متعلق کچھ نہ کچھ سننے میں آتا ہے۔ ویسے خود ایسے آزمائشی مرحلے سے ہم بھی گذر چکے ہیں۔ مہینوں کی تلاش کے بعد چاند سی بہو ڈھونڈی جاتی ہے۔ بڑے ارمانوں کے ساتھ گھر لایا جاتا ہے۔ دودھ سے پیر دھلائے جاتے ہیں‘ پھر ایسا کیا ہوجاتا ہے کہ جس بہو کی شان میں قصیدے پڑھے جاتے ہیں‘ اس کی شکایتیں عام ہوجاتی ہیں۔ جس سے گھر کو آباد کرنے کے خواب دیکھے جاتے ہیں‘ یا تو ساس سسر اسی گھر کو چھوڑ جاتے ہیں یا پھر بہو اپنے میاں کو لے کر اس گھر سے چلی جاتی ہے۔
اللہ تعالیٰ کی مصلحت وہی جانتا ہے کہ پہلے انسان نبی حضرت آدم علیہ السلام کو اس نے خود اپنے ہاتھ سے تیار کیا‘ روح پھونکی اور انہی کی پسلی سے اماں حوا کو پیدا کیا۔ لہٰذا دنیا کی پہلی خاتون کو ساس کا تجربہ نہیں ہوسکا اور خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم کے فرزندان کم عمر ہی میں اللہ کو پیارے ہوگئے تھے، اس لئے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو بہو نہیں تھی شاید اسی لئے بہو کے حقوق کا مذہبی کتابوں میں ذکر نہیں ملتا۔ مگر اسلام ایک مکمل مذہب ہے۔  اکابرین اور مجتہدین نے ساس اور بہو کے رشتے کے حقوق بھی متعین کئے ہیں۔ ساس اور بہو کے درمیان ایک شخص مشترک ہے، جو اپنی بیوی کا شوہر اور اپنی ماں کا بیٹا ہے، اسے دونوں کے حقوق ادا کرنا ہے۔ ماں کا حق عظیم ہے، اس کے ساتھ حسن سلوک واجب ہے۔ ارشاد ربانی ہے: اور تیرا رب یہ فیصلہ کرچکا ہے کہ اس کے علاوہ کسی دوسرے کی عبادت مت کرو اور والدین کے ساتھ حسن سلوک کیا کرو، اگر آپ کی زندگی میں وہ دونوں یا پھر ان میں سے کوئی ا یک بوڑھا ہوجائے تو تم انہیں اُف بھی نہ کہو اور نہ ہی انہیں ڈانٹ ڈپٹ کرو اور ان کے لئے اچھی اور نرم بات کہو‘‘ (الاسراء23)۔
دوسری طرف بیوی کے حقوق سے متعلق اللہ رب العزت سورہ عنکبوت میں فرماتا ہے اللہ وہ ذات ہے، جس نے تمہارے لئے تمہاری ہی جنس سے بیویاں پیدا کیں تاکہ تمہیں سکون حاصل ہو۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد مبارک ہے: ’’تم میں سے مکمل ایمان والے وہ لوگ ہیں، جن کے اخلاق بہترین ہوں اور تم میں سب سے  بہتر وہ لوگ ہیں جو اپنی بیویوں کے ساتھ اچھے ہیں‘‘۔ ایک اور حدیث مبارک ہے‘ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:جو شخص اللہ پر ایمان اور قیامت پر یقین رکھتا ہے،، اسے چاہئے کہ ہمسائے کو تکلیف نہ دے نیز عورتوں سے اچھا سلوک کرتے رہو کیوں کہ عورتوں کی پیدائش پسلی سے ہوئی ہے اور پسلی کا سب سے ٹیڑھا حصہ اوپر والا ہوتا ہے۔ اگر تم اسے سیدھا کرنا چاہوگے تو اسے توڑ ڈالوگے اور اگر ایسے ہی رہنے دوگے تو ویسی ہی ٹیڑھی رہے گی اس لئے خواتین کی خیر خواہی کے سلسلہ میں وصیت قبول کرو۔
ایک مرد جو اپنی ماں کا بیٹا اپنی بیوی کا شوہر ہے اسے اپنی ماں اور بیوی، جو رشتے میں ساس اور بہو ہے، ان کے درمیان توازن برقرار رکھنے کے لئے بڑے آزمائشی مرحلے سے گذرنا پڑتا ہے۔ اکثر جھگڑے یا اختلافات اس لئے پیدا ہوتے ہیں کہ ماں کو یہ غلط فہمی یا احساس ہونے لگتا ہے کہ بہو آنے کے بعد بیٹے کی محبت میں کمی آگئی ہے اور بہو کو یہ احساس ستاتا رہتا ہے کہ اپنے شوہر کو ہر قسم کی آسودگی و تسکین کا سبب بننے کے باوجود اس کا شوہر اس سے زیادہ اپنی ماں کو چاہتا ہے یا اس کے مشوروں کے مقابلے میں اپنی ماں کی رائے کو اہمیت یا ترجیح دیتا ہے۔ کبھی یہ احساس بھی رہتا ہے کہ شوہر کی آمدنی تقسیم ہورہی ہے، ماں بلاشبہ اپنے بیٹوں کو بے حد چاہتی ہے ، اس کے بارے میں کوئی دو رائے نہیں ہوسکتی، مگر اپنے بیٹے کی بیوی سے اسے وہ محبت نہیں ہوپاتی، جس کی وہ مستحق ہوتی ہے۔ ویسے کئی ایسی مثالیں بھی ہیں کہ بہوئوں نے بیٹیوں سے زیادہ اپنے سسرالی رشتہ داروں کی خدمت کی۔ اپنے اخلاق و کردار اور عمل سے اپنے گھر کو جنت بنادیا۔ ایسی بھی مثالیں ہیں کہ بعض بہوئوں کے رویوں سے جنت جیسے گھر جہنم بن گئے۔ گھر کا  ذمہ دار آدمی ساس بہو کے جھگڑوں میں الجھ کر ذہنی مریض بن گیا۔ بعض اوقات مرد رشتوں کو نبھانے میں توازن کھودیتا ہے اور بعض اوقات ماں اپنے فرائض، بیوی اپنے حقوق فراموش کردیتی ہے۔ جن مائوں کو یہ شکایت رہتی ہے کہ ان کی بہو نے بیٹوں سے انہیں دور کردیا تو انہیں یہ جان لینا چاہئے کہ بیوی کا اپنے خاوند پر یہ حق ہے کہ وہ اپنی بیوی کے لئے علیحدہ رہائش کا انتظام کرے اور ماں سے بھی قریب ر ہے، اس کے لئے وہ ایک ہی مقام پر بیوی کے ساتھ علیحدہ رہ سکتا ہے۔ عام طور پر یہ سمجھا جاتا ہے کہ گھر میں بہو آجائے تو جہاں گھر کی ذمہ داریاں بھی وہ سنبھال لے گی وہیں ساس سسر، نند دیور، جیٹھ اور دیگر سسرالی رشتہ دار کی بھی خدمت کی ذمہ داری قبول کرلے گی۔ کم سے کم ہندوستانی معاشرے، جس میں مسلم گھرانے شامل ہیں،اکثر و بیشتر بہوئیں یہ ذمہ داری نبھاتی رہی ہیں تاہم یہ ایک حقیقت ہے کہ اپنے والدین کی خدمت اس کی اولاد پر فرض ہے، بہو اس سے مستثنیٰ ہے، اگر وہ اپنی ساس سسر اور دیگر سسرالی رشتہ داروں کی خدمت کرتی ہیں تو یہ اس کے اعلیٰ اخلاق اور اوصاف ہی نہیں بلکہ یہ اس کا احسان بھی ہے۔ اِن دنوں دولت مند اور تعلیم یافتہ گھرانوں بالخصوص بیرونی ممالک میں مقیم افراد اپنے بیٹوں کی شادی عالمات سے کروانے کو ترجیح دے رہے ہیں اور یہ حقیقت ہے کہ بیشتر خلع اور طلاق کے واقعات ایسے ہی خاندانوں میں اس لئے پیش آرہے ہیں کہ مذہبی تعلیم سے و اقف لڑکیاں جانتی ہیں کہ شوہر کی خدمت اور اطاعت ان کی ذمہ داری ہے، اپنے سسرالی رشتہ داروں کی نہیں۔ اکثر عالمات کے شوہر مذہبی تعلیم سے کم ہی آشنا ہوتے ہیں اور جب وہ اپنی بیویوں کو اپنے والدین کی خدمت کے لئے زور دیتے ہیں تو بیویاں مذہبی تعلیم کے حوالوں سے انہیں سمجھاتی ہیں، جس پر اختلافات کی بنیاد پڑتی ہے۔ عالمات سے شادی کرنے والے لڑکوں کے لئے یہ ضروری ہے کہ وہ بھی مذہبی تعلیمات سے بیوی کے حقوق‘ اس کی ذمہ داریوں سے پوری طرح واقف رہے۔
اکثر گھرانوں میں ساس بہو کے درمیان اختلافات کے لئے تیسرا فریق ذمہ دار ہوتا ہے۔ سنی سنائی باتوں پر یقین کرنے سے ہی ایک دوسرے کے خلاف بدگمانی، نفرت پیدا ہوتی ہے جو خاندان کے انتشار کا سبب بنتی ہے۔ ہم نے اپنی بہوئوں کو گھر میں قدم رکھنے سے بہت پہلے ان کی رہائش کا انتظام الگ بھی کیا اور یہ سمجھا دیا ہے کہ بیٹا! اگر کوئی تیسرا فرد ساس بہو کے درمیان اختلاف و بدگمانی پیدا کرنے والی بات کہے‘ پہلے تو سنی سنائی باتوں پر یقین نہ کرنا اور یقین آبھی جائے تو غلط فہمی دور کرلینا۔ اچھے خاصے ہنستے کھیلتے خوشگوار خاندانوں میں دڑاڑ پیدا کرنا شیطان کی روایت ہے۔ اکثر شیطان قریبی رشتہ داروں کے بھیس میں بھی آتا ہے۔ جب کوئی تمہارے سامنے کوئی ایسی بات کہے جس سے تمہاری دل شکنی ہو تو استغفار پڑھ لینا اور پہلی فرصت میں اپنے ساس سسر سے اس کی وضاحت کرلینا۔
بیویوں کی رہائش علیحدہ کرکے بھی خاندان کو متحد رکھا جاسکتا ہے۔ اس سے گھر کے اخراجات پر اثر پڑتا ہے۔ دس افراد پر مشتمل ایک خاندان پر جو مصارف ہوتے ہیں،اگر یہی دس افراد چار گھروں میں تقسیم ہوجائے تو یہی مصارف چار گنا بڑھ جاتے ہیں۔ عقلمند عورتیں اپنے شوہروں کی کمائی کا احساس کرتے ہوئے کافی بچت کرسکتی ہیں۔
عام طور پر ہر لڑکی یہ چاہتی ہیں کہ شادی کے بعد اس کا سنسار الگ ہواور اس کے ماں باپ کا بھی یہی نظریہ ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جہیز کی جو روایت جاری ہے، اس میں لڑکی کو جو سامان دیا جاتا ہے ،اس کا مقصد یہی ہوتا ہے کہ وہ علیحدہ سے اپنا گھر بسائے۔ اور لڑکے والوں کی بے غیرتی ہی ہوتی ہے کہ وہ اسی قسم کے جہیز کا مطالبہ کرتے ہیں۔
بہرحال کبھی نند بھاوج کے اختلافات، کبھی دیورانی جیٹھانی کی چپقلش خاندان کے بکھرنے کا سبب بنتے ہیں۔ اس کے لئے ضروری ہے کہ ہر رشتے کی حد بندی کی جائے۔ بھاوج کو یہ احساس نہ ہونے دیا جائے کہ اس کی نند چاہے وہ اَن بیاہی ہو یا شادی شدہ‘ اُسے گھر میں‘ گھر کے قریب یا بیرون ملک رہتی ہو، اس کے لئے کوئی بڑا مسئلہ ہے۔ ہر معاملہ میں وہ دخل اندازی کرتی ہیں، اس کا شوہر بیوی سے زیادہ بہن کی بات سنتا ہے۔ اس کے برعکس نندوں کا مزاج، رویہ بھی ایسا ہی ہونا چاہئے کہ اس کی بھاوج اسے اپنا ہمراز، ہمدرد، غمگسار سمجھے۔ اس سے بات کرکے اس کا بوجھ ہلکا ہو، اسے سکون ملے۔ صحیح وقت پر صحیح الفاظ کا استعمال، لب و لہجہ کا تعین، رشتوں کی شیرازہ بندی کرتا ہے۔ بہوئوں کو بھی اس بات کا  احساس ہونا چاہئے یا پھر اس کے والدین اسے یہ احساس دلانا چاہئے کہ وہ اگر ایک گھر میں بہو، بھاوج ہے تو اپنے ماں باپ کے گھر میں وہ کسی کی نند بھی ہے۔ آج تو بہو کا روپ ،کل ساس بنے گی۔ آج وہ جس دور سے گذر رہی ہے آنے والے کل وہ اُسی دور سے گذرے گی جس دور سے اس کی ساس گذر رہی ہے۔ پھر یہ قدرت کا انصاف ہی ہے کہ کل کسی نے اپنی ساس کے ساتھ بدسلوکی کی تو آج اس کی بہو تاریخ دوہرائے گی اور آنے والی کل اس بہو کی بہو وہ بھی تاریخ دوہرائے گی۔
یہ سچ ہے کہ سسرالی رشتہ داروں کی خدمت بہو کا فرض نہیں ہے‘ نہ شریعت نہ ہی ملک کے قانون اسے مجبور کرسکتا ہے تاہم رشتہ داروں سے صلہ رحمی، حسن سلوک کی ہمیں ہدایت دی گئی ہے اور سب سے بہتر انسان وہی ہے، جس کے اخلاق سب سے بہتر ہوں۔ خوبصورتی، دولت، جوانی تو عارضی ہیں۔ اخلاق، کردار، سیرت، صلہ رحمی، حسن سلوک تو دائمی ہے۔ جس کا ذکر اثر اور اجر لامحدود ہے۔ ہم اپنے اپنے حقوق سے واقف ہوجائیں تو بہت سارے مسائل پیدا ہی نہیں ہوںگے۔ 
مضمون نگار  ایڈیٹر گواہ اردو ویکلی‘ حیدرآباد ہے
فون 9395381226
