تازہ ترین

وحشی سعید جیسا کوئی محب اُردو ہے!!

ڈاکٹر ظہیرانصاری

20 نومبر 2016 (00 : 01 AM)   
(      )

 دوستوں کا دوست، دشمنوں کا بھی دوست، حاسدوں سے پیار کرنے والا، منافقوں کو پاس بٹھانے والا، صلح و صفائی کا راستہ اختیار کرنے والا، بھرپور محبت سے ملنے والا، نہایت ہی نرم گفتگو کرنے والا، ڈاؤن ٹو ارتھ (down to earth) کوئی شخص اگر سرینگر میں مل جائے تو سمجھئے وہ شخص وحشیؔ سعید ہوگا۔ اس کے علاوہ اُس شخص میں وحشیؔ سعید کودیکھ سکتے ہیں جو اُردو کا پرچم ایک نرالی شان سے لہرا رہا ہو، افسانے تخلیق کر رہا ہو، اُردو کی محفلیں سجا رہا ہو، میٹٹنگیں، نشستیں منعقد کر رہا ہو اور مزے کی بات تو یہ ہے کہ یہ سب کچھ وہ حکومت کی ناک کے نیچے کر رہا ہو۔اس سے بھی تشفی نہ ہوئی ہو تو اس کے ظاہری رنگ و روپ سے اس کی شناخت کر سکتے ہیں۔ گورا چٹا، کشمیری ناک، چوڑی پیشانی بلکہ پیشانی اور سر تقریباً ایک ہو گئے ہیں۔ سر کے بچے کھچے بال بھی جاتے رہے، سر اور دھڑ کو جوڑنے والی گردن کا نام و نشان نہیں، چہرے پر ایک نورانی چمک، آنکھوں میں بلا کی ذہانت جسے عینک بھی ٹپکنے سے روک نہیں پاتی، مخاطبت میں غضب کی خود اعتمادی اور بھاری بھرکم جسم… اب تو اُردو کے غم میں اور بھی موٹے ہوتے جا رہے ہیں۔ گنجے پن کو چھپانے کے لیے کبھی کبھی انگریزی ٹوپی کا سہارا لینا معیوب نہیں سمجھتے البتہ مسلمانی ٹوپی سے پرہیز ضرور کرتے ہیں۔
مجھے بالکل یاد ہے کہ میں وحشیؔ سعید سے پہلی مرتبہ کب ملا۔ وہ ۵؍اگست ۲۰۱۴ء کا دن تھا۔چونکہ ابھی سال بھی نہیں ہوئے ہیں، اس لیے یہ لکھنا بھی کتنا مضحکہ خیز لگتا ہے کہ پہلی بار کب ملا۔یہ لکھتے ہوئے مجھے باقر مہدی یاد آ گئے۔ اُنھوں نے جس کا بھی خاکہ لکھا، یہ ضرور لکھنے اور بتانے کی کوشش کی کہ متعلقہ ادیب یا شاعر سے وہ پہلی مرتبہ کب ملے۔ حد تو یہ ہے کہ انہوں نے یہ بھی لکھا ہے کہ وہ آخری بار کب ملے۔ جب تحریری طور پرکچھ وقوع پذیر ہو تو اس کی حیثیت دستاویزی اور تاریخی ہو جاتی ہے، اسی لیے میں نے بھی مناسب جانا کہ پہلی تاریخ ملاقات لکھ دی جائے۔
اُس روز ہوٹل شہنشاہ پیلیس کے وسیع و عریض، خوشنما اور سرسبز لان (lawn) میں ٹیبل پر آمنے سامنے کئی نامور ہستیاں جلوہ افروز تھیں۔ میں اس لیے اُنہیں جانتا تھا کہ گذشتہ سفرِ کشمیر (نومبر ۲۰۱۳ء) میں ان سے ملاقات ہو گئی تھی جن میں نور شاہ، ڈاکٹر اشرف آثاری، شیخ بشیر احمد اور دیگر اراکین اُردو اکادمی (جموں کشمیر) موجود تھے۔ مظفر ایرج صاحب سے پہلی ملاقات اُسی دن شہنشاہ پیلیس ہی میں ہوئی، البتہ ہم فون پر گفتگو کرتے تھے اور انہی کی دعوت پر اُس پروگرام میں میرا جانا ہوا تھا وگرنہ میں وحشیؔ سعید کو جانتا بھی نہیں تھا۔ ایک لحیم شحیم شخص آگے بڑھا، مجھے گلے لگانے کی کوشش کی لیکن پیٹ بیچ میں حائل ہو گیا، سینے تک میں پہنچ نہیںسکا۔ اسی بیچ مظفر ایرج نے تعارف کرایا… یہی ہیں وحشیؔ سعید … کشمیر کے مایہ ناز فکشن نگار۔ شخصیت  پُرکشش تھی، ہم آمنے سامنے بیٹھے، مختصر گفتگو ہوئی۔ زیادہ ہو بھی نہیں سکتی تھی کیونکہ ملاقات پہلی تھی۔ البتہ انہوں نے خاص طور پر ضیافت کا خیال رکھا، حالانکہ ان کے کارندے کم نہ تھے اور سب سے بڑی بات یہ کہ تمام افراد نے بمع وحشیؔ سعید میرے انتظار میں دوپہر کا کھانا نہیں کھایا تھا، جب کہ گھڑیال ۳ سے تجاوز کر گیا تھا۔ گویا محبت کی یہ پہلی شروعات تھی۔
اُن کے برادرخوردر ظہور تنویر بھی بہ نفس نفیس وہاں موجود تھے اور اپنے ادبی لگاؤ اور رچاؤ کا متعدد، بہترین اور نایاب اشعار سنا کر ثبوت دے رہے تھے۔ اُنہیں دور سے دیکھنے پر ایسا لگا کہ کہیں یعقوب راہی (ممبئی کے مشہورباغی شاعر جن کا کام دلت شاعری کا اُردو میں ترجمہ بھی ہے) تو نہیں بیٹھے ہیں۔ جب میں نے اُن سے کہا کہ آپ یعقوب راہی سے کبھی ملے ہیں، آپ بالکل انہی کی طرح دکھائی دیتے ہیں۔ تو انہوں نے نہ میں جواب دیا اور کہا کہ آپ یہ کیوں نہیں کہتے کہ وہ میری طرح دکھائی دیتے ہیں۔ اُن کی حاضر جوابی پسند آئی اور بیساختہ مادھوری دیکشت کا وہ انٹرویو یاد آ گیا جس میں انٹرویو کرنے والے نے جب مادھوری سے یہ پوچھا تھا کہ ’’آپ کو کیسا لگتا ہے جب لوگ کہتے ہیں کہ آپ کی مسکراہٹ مدھوبالا جیسی ہے؟‘‘۔ اُس نے پلٹ کر جواب دیا تھا کہ لوگ جب یہ کہتے کہ مدھوبالا کی مسکراہٹ میری جیسی ہے تو مجھے زیادہ خوشی ہوتی۔ خیر اس میں احساسِ برتری کا عنصر بھی تلاش کیا جاسکتا ہے لیکن ظہور تنویر میں اِس طرح کی کوئی بات نہیں تھی۔ ظہور تنویر اور مظفر ایرج کا ذکر خیر ہوتا رہے گا جب جب وحشیؔ سعید کا نام آئے گا کیوں کہ یہ دونوں ہی وحشیؔ سعید کی زندگی کے جزو لاینفک ہیں۔
گذشتہ اگست ۲۰۱۴ء کی تقریب جو وحشیؔ سعید نے سجائی تھی اور ملک بھر سے خاص طور پر مدیروں کو یکجا کیا تھا اور کچھ شاعروں کو بھی بلا لیا تھا۔اگرچہ مقامی شعرا  و  ادبا کی تعداد بھی کم نہیں تھی مگر سب سے اہم جوبات اس تقریب کی تھی وہ اس کا حسن انتظام تھا۔ تمام اخراجات خود اُٹھائے۔ بیک وقت ان کی فکشن کی چار کتابوں ’’خواب حقیقت‘‘، ’’کنوارے الفاظ کا جزیرہ‘‘، ’’سڑک جا رہی ہے‘‘ اور ’’پتھر پتھر آئینہ‘‘ کا اجرا کشمیر کی تاریخ میں کوئی معمولی واقعہ نہیں تھا … اور ساتھ ہی ’’نگینہ‘‘ دو ماہی کی مکرر رسمِ رونمائی۔ وحشیؔ سعید نے دل کھول کر خرچ کیا، اُردو کے لیے اپنی دولت لٹائی اور وہ بھی فخریہ۔ یہ جذبہ پورے برصغیر کیا، دنیا بھر میں کسی محب اُردو میں نہیں۔ اسی لیے میں نے کہا تھا کہ ’’وحشیؔ سعید جیسا محب اُردو کوئی نہیں‘‘۔ اگر کوئی ہے تو سامنے آ جائے اور اس ریکارڈ کو توڑ کر بتلائے۔
اُردو اور اُردو ادب سے لگاؤ کے تعلق سے وحشیؔ سعید کا خاندان بھی کچھ کم اُتاولا نہیں ہے۔ خاندان کا بزنس مشترکہ ہے۔ دو بھائی ساتھ ساتھ ہیں… ظہور تنویر اور مجید جہانگیر کی رضا مندی ہر پروگرام کے لیے یکساں رہتی ہے۔ والدین کا انتقال ہو چکا ہے۔ وحشیؔ سعید کے داماد سپریم کورٹ کے ایک نامور وکیل ہیں جب کہ بیٹی اعلیٰ تعلیم یافتہ ہیں۔ وہ بھی مضامین اور فیچر لکھتی ہیں۔ سب سے اہم بات جو میں وحشیؔ سعید کے اُس اکلوتے بیٹے کے تعلق سے، جو بحرین میں رہتا ہے، بتانا چاہتا ہوں، جسے خود وحشیؔ سعید نے میرے گوش گزار کیا اور میرا منہ کھلا کا کھلا رہ گیا۔ وحشیؔ سعید اپنے دوسرے کاموں کے علاوہ اِن ادبی پروگراموں کے تعلق سے بیٹے کی رائے لینا مناسب سمجھتے ہیں، آخر اتنے بڑے بزنس کا وارث تو وہی ہے کہ اِن کے اِس شوق فضول (جسے اُردو سے کمائی کرنے والوں کے بچے خاص طور پر پکارتے ہیں) سے اُسے کچھ مسئلہ تو نہیں ہے۔ آپ بھی سنئے اور سر دھنئے کہ لائق بیٹا کیا جواب دیتا ہے… ابو! میرا شوق اچھی اور قیمتی گاڑیوں (کاروں) کا ہے۔ فرض کیجیے کہ وہ گاڑیاں ۵۰-۶۰ لاکھ روپئے کی ہوتی ہیں۔ ہر برس بیس فیصدی depereciation کی وجہ سے تقریباً ۱۰-۱۲؍لاکھ روپئے ان کی قیمت کم ہو جاتی ہے اور ۵؍برس بعد وہ بے قیمت ہو جاتی ہیں۔ اس کے علاوہ بھی میرے شوق ہیں۔ آپ کا اگر ادب ہی شوق ہے، تو مجھے کوئی مضائقہ نہیں۔ اِتنی بڑی بات اور اپنے والد کو اِس طرح ہمت و ولولہ دینے والا کوئی فرزند میری نظر میں تو نہیں۔ اگر آپ کے اِرد گرد ہو تو ضرور بتائیں۔
چند دنوں پہلے ہی وحشیؔ سعید کے ساتھ خاصا وقت گزارنے کا موقع ملا ہے۔ چونکہ ’’نگینہ‘‘ کے انٹرنیشنل ادب نمبر کا اجرا عمل میں آنے والا تھا (۱۹؍مئی۲۰۱۵ء کو) اور میں چاہتا بھی تھا کہ زیادہ سے زیادہ وقت ان کے ساتھ گزاروں کیونکہ دل ہی دل میں اُن پر خاکہ لکھنے کا ارادہ میں نے کر لیا تھا۔ وحشیؔ سعید کے تیور و انداز وہی تھے (پروگرام کے تعلق سے) جو گزشتہ اگست میں تھے حالانکہ سیلاب (ستمبر ۲۰۱۴ء) کے عفریت نے سب کچھ غارت کر دیا تھا لیکن پتہ نہیں یہ آدمی کس مٹی کا بنا ہوا ہے اور خدا پر کس اعلیٰ درجے کا ایمان رکھتا ہے۔ چونکہ سیلاب کے کچھ دنوں بعد بھی میرا کشمیر جانا ہوا تھا، وحشیؔ سعید کو میں نے کافی پُرسکون، پُراعتماد اور پُر جوش پایا تھا۔ سیلاب سے ہوئی بربادی کا کوئی ملال نہیں تھا اُنہیں۔ ہوٹل برباد ہو چکا تھا ، گھر کے فرنیچر، فرش اور دیواریں تباہ ہو چکی تھیں، لیکن ان کا عملی جذبہ متزلزل نہیں ہوا تھا اور ادبی جوش بھی حسبِ سابق قائم تھا۔ یہ وحشیؔ سعید کا عزم ہی تھا کہ سیلاب کے بعد بھی ’’نگینہ‘‘ کے دوسرے دور کا دوسرا شمارہ شائع کیا۔ کوئی دوسرا ہوتا تو سپر ڈال دیتا کہ جو تباہیاں سیلاب نے پھیلائی تھیں وہ ہما شما کے بس کی بات نہیں تھی کہ اِس ’بے فیض‘ کام میں پھر ہاتھ ڈالتا۔ لیکن اپنی باز آبادکاریوں کے ساتھ وحشی سعید اور ظہور تنویر نے ’’نگینہ‘‘ کے بھی اجرائے ثانی کو ملحوظِ خاطر رکھا اور اپنے روز مرہ کے کام میں اسے بھی شامل کیا اور اُردو ادب کو ایک بہترین انٹرنیشنل ادب نمبر (نگینہ کے دوسرے دورکا تیسرا شمارہ) فراہم کیا۔
آج ادب میں لوگ باگ یہ سمجھ رہے ہیں کہ یہ وحشیؔ سعید اچانک کہاں سے نمودار ہو گیا۔ کیا یہ سب اپنے روپئے پیسے کے بل پر کر رہا ہے، شہرت کا بھوکا تو ہے نہیں اور یہ سب کر کے یہ کرنا کیا چاہتا ہے؟ ارے بھئی، افسانہ نگار ہو… ناولٹ بھی لکھے ہو… بس، تو کیا ہو… اور کیا چاہیے؟ لیکن مجھے ایک فون آیا بہار کے ایک دور دراز علاقے بگہا، مغربی چمپارن (Bagaha) سے تشنہؔ اعجاز کا اور میری زبان سے یہ نکل گیا تھا کہ میں کشمیر آیا ہوں۔ میرے آگے کچھ کہنے سے پہلے ہی تشنہؔ صاحب، یہ ان کا قلمی نام ہے، ہیں تو وہ مولانا حفظ الرحمن، گویا ہوئے کہ ظہیر بھائی، وہاں سے ایک رسالہ ’’نگینہ‘‘ کے نام سے نکلتا تھا جس میں میری بھی ایک کہانی ’’اغوا‘‘ کے عنوان سے چھپی تھی، اچھا رسالہ تھا۔ میں نے اُن سے کہا کہ وہ رسالہ پھر سے نکلنا شروع ہو گیا ہے اور میں تو اُسی کے خاص نمبر (انٹر نیشنل ادب نمبر)کی رسمِ رونمائی کے موقع پر یہاں آیا ہوں۔ مولانا بہت خوش ہوئے ۔ انہوں نے کہا کہ اُس کے مدیر کوئی ساحلؔ ہو ا کرتے تھے۔ آپ اُن سے میری بات کرائیے اور نگینہ میرے نام جاری کروا دیجیے ۔ اُنہوں نے پوچھنے پر بتایا تھا کہ وہ کہانی غالباً ۱۹۷۲ء میں چھپی تھی۔
یہ ساحلؔ کوئی اور نہیں بلکہ وحشیؔ سعید ہی ہیں جو پہلے وحشی سعید ساحلؔ ہوا کرتے تھے۔ یعنی پتہ یہ چلا کہ یہ وحشیؔ سعید آج کے نہیں ہیں۔ انھیں لوگ برسوں سے جانتے ہیں۔ میں اور میری نسل کے لوگ بھلے ہی نہ جانتے ہوں انہیں اور نگینہ کو۔ میں اس بات کا اعتراف کر چکا ہوں اس سے پہلے میں بھی وحشیؔ سعید کو نہیں جانتا تھا کہ یہ میری بے خبری تھی اور نہ ہی کسی سے سنا تھا کہ یہ اُن کی بے خبری تھی۔ تشنہؔ اعجاز جن کا ذکر میں نے کیا ہے وہ میرے رسالہ ماہنامہ تحریرِ نو کے ایک مخلص قاری ہیں۔ وحشیؔ سعید جو ہر چار چھے مہینے میںاحباب کو اکٹھا کر تے رہتے ہیں، ان کا مقصد، ادب کے قاری کو زندہ رکھناہوتاہے۔ لوگوں کو اپنے تجربے میں شامل کرنا ہوتا ہے اور یہ کم بڑی بات نہیں ہے۔ سچ پوچھئے تو اجرا  ایک بہانہ ہوتا ہے  ؎               
تقریب کچھ تو بہرِ ملاقات چاہیے… 
اس کی آڑ میں محبت ہے، عقیدت ہے، جذبہ ہے، ایثار ہے، قربانی ہے۔ کس کے لیے…؟ اس ظالم اُردو کے لیے… یہ اُردو جو حسینہ ہے، اس کی زلف کا جو بھی گرہ گیر ہوا ہے، اُس کا تو خدا ہی حافظ ہے۔
یہ اُن دنوں کی بات ہے جب وحشیؔ سعید نوجوان ہوا کرتے تھے اور عالمِ نوجوانی میں کسی کی زلف کا اسیر ہونا کوئی تعجب کی بات نہیں۔ اُردو کے عشق میں گرفتار یہ نوجوان اپنے بھائیوں کے ساتھ اور فیملی کے فُل سپورٹ سے جب ۱۹۶۸ء میں ’’نگینہ‘‘ کے نام سے ایک رسالہ جاری کرتا ہے تو اس کی دیوانگی کے قائل اُس وقت کے مشاہیرکے علاوہ جید علمائے اردو بھی ہو جاتے ہیں۔ اس کا اندازہ مجھے ’’نگینہ‘‘ کے ۱۹۷۴ء کے ’’تخلیق نمبر‘‘ اور دسمبر ۱۹۷۵ء کے ’’ادب نمبر‘‘ کو دیکھ کر ہو جاتا ہے۔ یہ دونوں نمبر مجھے کسی طرح ہاتھ لگ گئے۔ ان میں شامل اکابر اُردو میں زیب غوری، جگن ناتھ آزاد، مظہر امام، حامدی کاشمیری، بشیر بدر، عادل منصوری، پرکاش فکری، بشر نواز، عتیق اللہ، کرشن موہن، رفیق ر از، مظفر ایرج، فاروق مضطر، کمار پاشی، پرتپال سنگھ بیتاب، غضنفر، جوگندر پال، شوکت حیات ۔۔۔۔۔اور ڈاکٹر وزیر آغا، عبدالعزیز خالد، شوکت سبزواری، سلیم احمد، مجید امجد، زہرہ نگاہ، انتظار حسین، ناصر کاظمی، ممتاز مفتی، منیر نیازی، قتیل شفائی، غلام عباس، ابن انشاء ، احمد فراز، قمر احسن، ایاز رسول، صلاح الدین پرویز، شبنم قیوم، صادق، حکیم منظور، محمد زماں آزردہ، عشرت قادری اور وحشی سعید ساحل ہیں۔ اِن کے علاوہ شمس الرحمن فاروقی، کرامت علی کرامتؔ، بلراج کومل، شفق، غلام نبی خیالؔ وغیرہ کے خطوط نہ صرف اہمیت کے حامل ہیں بلکہ یہ اُن دنوں کی بات ہے جب اِن میں بیشتر ’’جید‘‘ نہیں تھے۔ لیکن اب یہ وہ لوگ ہیں جن سے اُردو کی تاریخ یعنی تاریخ ادب اردو متعین ہوتی ہے۔
تقریباً ۴۰؍برس پہلے نگینہ کے ان دونوں شماروں میں وحشی سعید ساحلؔ کے دو ناولٹ ’’ایک موسم کا خط‘‘ اور ’’پتھر پتھر آئینہ‘‘ بتدریج شائع ہوئے ہیں اور ایک شمارہ میں ایک افسانہ ’’کہانی کا آسیب‘‘ بھی شائع ہوا ہے۔ اس کے علاوہ ملک کے دیگر رسائل میں انہی دنوں مثلاً ’’شاعر‘‘ میں ان کے استاد محترم حامدی کاشمیری کے ساتھ اور دیگر رسالوں میں بھی افسانے شائع ہوئے ۔ مذکورہ ادباء و شعراء کی تخلیقات وحشیؔ سعید کے زیرِ ادارت شائع ہونا کوئی معمولی واقعہ نہیں ہے۔ مذکورہ دونوں ناولٹ کا دوسرا ایڈیشن ۲۰۱۴ء میں چھپا ہے جس کا ذکر پہلے آیا ہے۔
اب یہ تو ثابت ہو گیا کہ وحشیؔ سعید نئے نہیں ہیں۔ لیکن پتہ نہیں اپنے نام سے اب ساحلؔ کیوں ہٹا دیا ہے جب کہ جموں و کشمیر کی فکشن کی کشتی انہی کے کنارے لگی ہوئی ہے اور اب تو خیر سے نور شاہ، غلام نبی شاہد، سلیم سالک وغیرہ کے ساتھ مل کر جموں اینڈ کشمیر فکشن رائٹرس گِلڈ کا قیام بھی اُنہی کا مرہونِ منت ہے اور اس طرح ریاست میں فکشن کی ہریالی ہی ہریالی ہے۔ کبھی کبھی اچھی فصل بھی کاٹ لی جاتی ہے۔ خود وحشیؔ سعید نے اِدھر اچھے افسانے لکھے ہیں۔ مثلاً ’’آسمان میری مٹھی میں‘‘ اور ایک علامتی کہانی ’’عجائب گھر کا طوطا‘‘۔ اور بھی کئی کہانیاں متوقع ہیں۔ بات دراصل یہ ہے کہ وحشیؔ سعید ایک کثیر السفر انسان ہیں۔ بیشتر ملکوں کا بارہا سفر کیا ہے اور سال میں ایک دو بار اب بھی جاتے رہتے ہیں۔ اس لیے ان کے پاس کہانیوں کی کمی نہیں ہے، کہانیاں ان کے سامنے ہاتھ جوڑے کھڑی رہتی ہیں۔
وحشیؔ سعید ادب اور بزنس کو خلط ملط کرنا نامناسب سمجھتے ہیں۔ جب ادب کا کام کیا تو بزنس نہیں کیا اور جب بزنس کیا تو ادب کی طرف دیکھا تک نہیں۔ ۳۵-۴۰ برس منظرنامے سے غائب رہے جیسے گدھے کے سر سے سینگ۔ اب گدھے کے سر پر جو سینگ آ یا ہے تو گدھا بھی خوش اور سینگ بھی ’’نگینہ‘‘ کی طرح چمک رہا ہے۔ اب لگتا ہے کہ دونوں ساتھ ساتھ رہیں گے اور وحشیؔ سعید مذکورہ محاورے کو غلط ہی ثابت کر کے دم لیں گے۔ اب گدھا بھی ہوگا اور سینگ بھی۔ دونوں ایک دوسرے کے لازم و ملزوم بلکہ متمم (compliment) ٹھہرائے جائیں گے۔
وحشیؔ نام کا ان پر کوئی اثر نہیں ہے کیونکہ یہ نام ماں باپ یا بڑے بزرگوں نے نہیں رکھا ہے۔ وحشیؔ بننے کی حتی الامکان کوشش تو انہوں نے زندگی بھر کی لیکن خوش بختی کہ ناکام رہے۔چونکہ منفی چیزیں کوشش کرنے سے اپنائی نہیں جا سکتیں، یہ تو مزاج کا حصہ ہوتی ہیں بلکہ انہیں ’’فطرت‘‘ بھی کہہ سکتے ہیں، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کو ان کی فطرت پر پیدا کیا ہے۔ لیکن وحشیؔ ، وحشی کی گونج سے یہ ہوتے بہت خوش ہیں اور جب اس لفظ / نام پر بحث مباحثہ ہوتا ہے تو ان کی بانچھیں کھلنے لگتی ہیں۔ ٹھیک اُسی طرح جس طرح شیطان خوش ہوتا ہے۔ یہ قطعی نہ سمجھا جائے کہ میں ان کا موازنہ شیطان سے کر رہا ہوں بلکہ میں تو شیطان کا موازنہ ان سے کر رہا ہوں۔ جموں و کشمیر کیا، اب تو ملک بھر میں… نہیں نہیں، دنیا بھر میں ان کی ادبی شیطنت کے چرچے ہو رہے ہیں اور کوئی خطۂ اُردو بچا نہیں ہے جہاں یہ پہنچے نہ ہوں   ؎
’’شیطاںکے بعد دوسری شہرت ملی مجھے‘‘ (باقرؔ مہدی)
لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ عام طور پرکوئی انہیں وحشیؔ صاحب نہیں کہتا۔ سبھی سعید صاحب ہی کہتے ہیں خواہ وہ ملنے جلنے والے ہوں، دوست احباب ہوں، ہوٹل کا عملہ ہو یا کوئی اور۔ اپنے تو خیر کہہ ہی نہیں سکتے۔ کسی پروگرام کے موقع پر ہی وحشیؔ سعید ، وحشیؔ سعید کی رٹ لگتی ہے یا ان کے افسانوں یا کسی تحریر کے آگے۔ میں ان کے تعلق سے منعقدہ دو پروگراموں میں شریک رہا۔ دونوں ہی میں لوگوں نے جو ڈائس پر موجود تھے، بار بار یہی کہا کہ پتہ نہیں یہ وحشی کیوں لکھتے ہیں جبکہ ان میں وحشت والی کوئی بات نظر نہیں آتی اور نہ ہی ان سے کوئی خوف محسوس ہوتا ہے۔ اس بات پر یہ فقط تبسم کرتے ہیں۔ ایک لفظ بھی کبھی نہیں کہتے۔ مقررین اپنے گھر یہ اپنے گھر۔ لیکن میں نے جو محسوس کیا ہے اِس ’’وحشی‘‘ ہی میںپوری داستان نہاں ہے۔ یہ تخلیقات اسی کی مرہونِ منت ہیں۔ یہ دل کی آواز ہیں، کراہ ہیں، یہ جتنے معاملات ہیں اسی وحشی کے سبب ہیں۔ یہ خاموشی، بردباری، سنجیدگی، متانت، ٹھہراؤ، پھیلاؤ، رچاؤ ان کی جو صفات حمیدہ ہیں اسی وحشی کی وجہ سے ہیں۔اور یہی سبب ہے کہ گزشتہ ۵۰؍برسوں سے اس لاحقہ کو چھوڑ نہیں رہے ہیں۔ مجھے تو ایسا لگتا ہے کہ یہ ’’لفظ‘‘ ان کے لیے مبارک(lucky) ثابت ہواہے اور کسی قیمت پر یہ اسے تجنے کو تیار نہیں۔ کوئی چاہے تو قیمت لگا کر دیکھ لے۔ اسی لیے اُردو ادب میں صرف اور صرف ایک ہی وحشیؔ سعید  ہے اور غالباًرہے گا بھی۔
وحشیؔ سعید کو سیاست سے بھی دلچسپی ہے لیکن سیاست دانوں سے دور رہتے ہیں۔ اگرچہ ان کے کئی دوست سیاست کے میدان کے کامیاب شہسوار ہیں۔ ہندوستان بالخصوص جموں و کشمیر کی سیاست پر ان کی گہری نظر ہے اور اپنا ایک مطمحِ نظر بھی رکھتے ہیں۔ چونکہ کشمیری ہیں اس لیے کشمیریوں کی فلاح و بہبود کی فکر میں سرگرداں رہتے ہیں اور ان کی ذات سے کئی گھر استفادہ کر رہے ہیں۔ یہ چاہتے ہیں کہ وادی ترقی کے معاملے میں بہترین ہو جائے۔
اور اسی لیے روزانہ آج بھی ۱۲-۱۴ گھنٹہ کام کرتے ہیں، کوئی چھٹی نہیں۔ اس قدر کام کرنے کے لیے کھانا بھی ضروری ہوتا ہے۔ بارہ ایک کے آس پاس کَرَن نگر کی اپنی رہائش سے اپنے ہوٹل(شہنشاہ پیلیس) آجاتے ہیں۔ 
پھر چائے بریڈ ٹوسٹ، روٹیاں چلتی ہیں۔ کبھی کبھار کباب، چکن کا دور بھی چلتا ہے۔ ایک دو گھنٹے کے بعد لان سے اٹھ کر (کبھی کبھی ریستوران سے بھی) اپنے کیبن میں جاتے ہیں۔ وہاں بھی ملنے جلنے والوں کا تانتا لگتا ہے۔ جب جب لوگ آتے ہیں تب تب چائے آتی ہے، کھانے کی چیزیں آتی ہیں، ساتھ میں تنوری روٹیاں بھی۔ وحشیؔ سعید روٹیوں کو چائے میں ڈبو کر کھاتے ہیں اور ساتھ ہی اپنی قمیص کو بھی کھلاتے ہیںکہ بیچاری قمیص پناہ مانگتی ہے۔ چائے ناشتے کے دورانیے ہی میں وہ ہوٹل کا حساب کتاب دیکھتے ہیں۔ ان کا اکاؤٹنٹ فرماں برداری سے موٹے موٹے رجسٹر اٹھائے ایک ایک پنہ اُلٹ کر ان کا دستخط لیتا جاتا ہے۔ پتہ نہیں، وحشیؔ سعید کیا چیک کرتے ہیں، لیکن روزانہ ایسا کرتے ضرور ہیں۔ شام ۶-۷؍بجے کیبن سے اُٹھ کر بلیوارڈ روڈ، ڈَل جھیل کے سامنے ہی ہوٹل سے متصل اپنی دکان ،رمضانا جویلرس اینڈ ہینڈی کرافٹس پر جاتے ہیں اور دو تین گھنٹہ وہاں گزارتے ہیں۔ وہاں بھی حساب کتاب دیکھتے ہیں۔ ایک بات جو میں نے دیکھی، شاپ (دکان) پر یہ کچھ کھاتے پیتے نہیں، اگرچہ وہاں بھی یہ شغل کر سکتے ہیں کہ دکان میں بھی ایک کوناہے، جہاں سے یہ گاہکوں اور اپنے ملازمین کو دیکھ سکتے ہیں (آئینہ کے ذریعہ) لیکن انہیں کوئی نہیں دیکھ سکتا۔ وحشیؔ سعید کایہ روزانہ کا عمل ہے۔ رات ہوتے ہوتے تھک جاتے ہیں۔ کبھی کبھی تو exaust ہو جاتے ہیں پھر بھی موبائل بند نہیں کرتے۔ لوگوں کا اتنا خیال رکھتے ہیں کہ مِس ہوئے کال کو باری باری سے لگاتے ہیں اور متذکرہ شخص سے گفتگو کر کے ہی چین پاتے ہیں۔
قارئین! میں نے قصداً ان کے فن کو نہیں چھیڑا ہے کیونکہ اس پر لکھنے والے بہت مل جائیں گے۔ ان کے افسانے اور ناولٹ پڑھ کر میں خوش ہی نہیں ہوا بلکہ میں نے عبرت بھی پکڑی ۔ کبھی موقع ملا تو ان پر الگ سے بات کروں گا۔ خداوند قدوس سے دعا ہے کہ وحشیؔ سعید کو صحت مندو توانا رکھے تاکہ اردو کی خدمت اسی طرح ہوتی رہے اور انسانیت بھی سیراب ہو۔
 
رابطہ:(مدیر تحریرِ نو،نئی ممبئی)9833999883