تازہ ترین

رشتۂ زن وشو ہر کی معنویت

احساسِ مروت کہ محبت کہ احترام

17 نومبر 2016 (00 : 01 AM)   
(      )

محمد علی جبینی
شریعت اسلامیہ نے ہر شخص کو اس بات پر متوجہ کیا ہے کہ وہ اپنے فرائض ادا کرے،اپنی ذمہ داریوں کو صحیح طریقہ پر انجام دے اور لوگوں کے حقوق کی مکمل ادائیگی کرے۔ شریعت اسلامیہ نے ہر شخص کو مکلف بنایا ہے کہ وہ حقوق اللہ کے ساتھ حقوق العباد یعنی بندوں کے حقوق کی مکمل طور پر ادائیگی میں دقیقہ نہ کرے، حتیٰ کہ بعض وجوہ سے حقوق العباد کو زیادہ اہتمام سے ادا کرنے کی تعلیمات دی گئیں۔
آج ہم دوسروں کے حقوق تو ادا نہیں کرتے ہیں البتہ اپنے حقوق کا جھنڈا اُٹھائے رہتے ہیں۔ دوسروں کے حقوق کی ادائیگی کی کوئی فکر نہیں کرتے ہیں، اپنے حقوق کو حاصل کرنے کے لئے مطالبات کئے جارہے ہیں، تحریکیں چلائی جارہی ہیں، مظاہرے کئے جارہے ہیں، ہڑتالیں کی جارہی ہیں، حقوق کے نام سے انجمنیں اور تنظیمیں بنائی جارہی ہیں۔ لیکن دنیا میں ایسی انجمنیں یا تحریکیں یا کوششیں موجود نہیں  ،جن میں یہ تعلیم دی جائے کہ اپنے فرائض، اپنی ذمہ داریاں اور دوسروں کے حقوق جو ہمارے ذمہ ہیں وہ ہم کیسے ادا کریں؟ شریعت اسلامیہ کا اصل مطالبہ بھی یہی ہے کہ ہم میں سے ہر ایک اپنی ذمہ داریوں یعنی دوسروں کے حقوق ادا کرنے کی زیادہ کوشش کرے۔
میاں بیوی کے باہمی تعلقات میں بھی اللہ اور اسکے رسول صلی اللہ علیہ وسلم  نے یہی طریقہ اختیا ر کیا ہے کہ دونوں کو ان کے فرائض یعنی ذمہ داریاں بتادیں۔ شوہر کو بتادیا کہ تمہارے فرائض اور ذمہ داریاں کیا ہیں اور بیوی کو بتا دیا کہ تمہاری ذمہ داریاں کیا ہیں، ہر ایک اپنے فرائض اور ذمہ داریوں کو ادا کرنے کی کوشش کرے۔ زندگی کی گاڑی اسی طرح چلتی ہے کہ دونوں اپنے فرائض اور اپنی ذمہ داریاں ادا کرتے رہیں۔ دوسروں کے حقوق ادا کرنے کی فکر اپنے حقوق حاصل کرنے کی فکر سے زیادہ ہو۔ اگر یہ جذبہ پیدا ہوجائے تو پھر زندگی بہت عمدہ خوشگوار ہوجاتی ہے ،اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں ارشاد فرمایا: اور (مردوں پر ) عورتوں کا حق ہے جیسا کہ (مردوں کا) عورتوں پر حق ہے، معروف طریقہ پر۔ (سورہ البقرہ ۸۲۲) 
اس آیت میں میاں بیوی کے تعلقات کا ایسا جامع دستور پیش کیا گیا ہے، جس سے بہتر کوئی دستور نہیں ہوسکتا اور اگر اس جامع ہدایت کی روشنی میں ازدواجی زندگی گزاری جائے تو اِس رشتہ میں کبھی بھی تلخی اور کڑواہٹ پیدا نہ ہوگی، ان شاء اللہ۔ 
بلا شبہ یہ قرآن کریم کا اعجاز ہے کہ الفاظ کے اختصار کے باوجود معانی کا سمندر گویا کہ ایک کوزے میں سمودیا گیا ہے۔ یہ آیت بتارہی ہے کہ بیوی کو محض نوکرانی اور خادمہ مت سمجھنا بلکہ یہ یاد رکھنا کہ اس کے بھی کچھ حقوق ہیں، جن کی پاس داری شریعت میں ضروری ہے۔ ان حقوق میں جہاں نان ونفقہ اور رہائش کا انتظام شامل ہے وہیں اسکی دل داری اور راحت رسانی کا خیال رکھنا بھی ضروری ہے۔ اسی لئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا :کہ تم میں سب سے اچھا آدمی وہ ہے جو اپنے گھر والوں (یعنی بیوی بچوں) کی نظر میں اچھا ہو۔ اور ظاہر ہے کہ ان کی نظر میں اچھا وہی ہوگا ،جو اْن کے حقوق کی ادائیگی کرنے والا ہو۔ دوسری طرف اِس آیت میں بیوی کو بھی آگاہ کیا کہ اْس پر بھی حقوق کی ادائیگی لازم ہے۔ کوئی بیوی اْس وقت تک پسندیدہ نہیں ہوسکتی ،جب تک کہ وہ اپنے شوہر کے حقوق کو ادا کرکے اْس کو خوش نہ کرے۔ چنانچہ احادیث میں ایسی عورتوں کی تعریف فرمائی گئی ہے جو اپنے شوہر کی تابع دار اور خدمت گزار ہوں اور ان سے بہت زیادہ محبت کرنے والی ہوں اور ایسی عورتوں کی مذمت کی گئی ہے جو شوہروں کی نافرمانی کرنے والی ہوں۔
شوہر کی چند اہم ذمہ داریاں:
مکمل مہر کی ادائیگی۔ اللہ تبارک وتعالیٰ کا ارشاد ہے: عورتوں کو ان کا مہر راضی وخوشی سے ادا کردو۔ (سورہ النساء۔ ۴) نکاح کے وقت مہر کا تعین اور شب زفاف سے قبل اس کی ادائیگی ہونی چاہئے، اگرچہ طرفین کے اتفاق سے مہر کی ادائیگی کو مؤخر بھی کرسکتے ہیں۔ مہر صرف عورت کا حق ہے، لہٰذا شوہر یا اس کے والدین یا بھائی بہن کے لئے مہر کی رقم میں سے کچھ بھی لینا جائز نہیں ہے۔ 
وضاحت  :-    شریعت نے کوئی بھی خرچہ صنف نازک پر نہیں رکھا ہے، شادی سے قبل اسکے تمام اخراجات والد کے ذمہ ہیں اور شادی کے بعد عورت کے کھانے، پینے، رہنے، سونے اور لباس کے تمام اخراجات شوہر کے ذمہ ہیں، لہٰذا مہر کی رقم عورت کی خالص ملکیت ہے ،اس کو جہاں چاہے اور جیسے چاہے استعمال کرے، شوہر یا والد مشورہ تو دے سکتے ہیں مگر اْس رقم میں تصرف کرنے کا مکمل اختیار صرف عورت کو ہے۔ اِسی طرح اگر عورت کو کوئی چیز وراثت میں ملی ہے تو وہ عورت کی ملکیت ہوگی۔ والد یا شوہر کو وہ رقم یا جائیداد لینے کا کوئی حق نہیں ہے۔ اللہ تبارک وتعالیٰ کا ارشاد ہے: بچوں کے باپ (یعنی شوہر ) پرعورتوں (یعنی بیوی) کا کھانا اور کپڑا لازم ہے ،دستور کے مطابق۔ (سورۃالبقرہ ۳۳۲)
اس لیے شوہر کو چاہئے کہ وہ بیوی کے ساتھ اچھا سلوک کرے۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: ان کے ساتھ اچھے طریقے سے پیش آؤ، یعنی عورتوں کے ساتھ گفتگو اور معاملات میں حسن اخلاق کے ساتھ معاملہ رکھو، گو تم انہیں ناپسند کرو لیکن بہت ممکن ہے کہ تم کسی چیز کو برُا جانو اور اللہ تعالیٰ اس میں بہت ہی بھلائی کردے۔(سورۃالنساء ۹۱)
اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ گھر کے نظام کو چلانے کی ذمہ داری مرد کے ذمہ رکھی گئی ہے جیساکہ قرآن کریم میں مرد کے لئے قوَّام کا لفظ استعمال کیا گیا ہے یعنی مرد عورتوں پر نگہبان اور منتظم ہیں۔ لیکن حسن معاشرت کے طور پر عورت سے بھی گھر کے نظام کو چلانے کے لئے مشورہ لینا چاہئے، جیساکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم  نے ارشاد فرمایا: یعنی بیٹیوں کے رشتے کے لئے اپنی بیوی سے مشورہ کیا کرو۔(ابوداؤد، مسند احمد)
بیوی کی بعض کمزوریوں سے چشم پوشی کریں، خاص طور پر جب کہ دیگر خوبیاں ومحاسن ان کے اندر موجود ہوں۔یاد رکھیں کہ اللہ تعالیٰ نے عموماً ہر عورت میں کچھ نہ کچھ خوبیاں ضرور رکھی ہیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم  نے ارشاد فرمایا: اگر عورت کی کوئی بات یا عمل ناپسند آئے تو مرد عورت پر غصہ نہ کرے کیونکہ اس کے اندر دوسری خوبیاں موجود ہیں جو تمہیں بھی اچھی لگتی ہیں۔ (مسلم)
مرد بیوی کے سامنے اپنی ذات کو قابل توجہ یعنی اسمارٹ بناکر رکھے کیونکہ تم جس طرح اپنی بیوی کو خوبصورت دیکھنا چاہتے ہو وہ بھی تمہیں اچھا دیکھنا چاہتی ہے۔ صحابی رسول و مفسر قرآن حضرت عبد اللہ بن عباس فرماتے ہیں کہ میں اپنی بیوی کے لئے ویسا ہی سجتا ہوں جیسا وہ میرے لئے زیب وزینت اختیار کرتی ہے۔ (تفسیر قرطبی)
گھر کے کام وکاج میں عورت کی مدد کی جائے، خاص کر جب وہ بیمار ہو۔ حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم گھر کے تمام کام کرلیا کرتے تھے، جھاڑو بھی خود لگالیا کرتے تھے، کپڑوں میں پیوند بھی خود لگالیا کرتے تھے اور اپنے جوتوں کی مرمت بھی خود کرلیا کرتے تھے۔ (بخاری)
شوہر کی اطاعت:-      اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں ارشاد فرمایا: مرد عورتوں پر حاکم ہیں اس وجہ سے کہ اللہ تعالیٰ نے ایک کو دوسرے پر فضیلت دی ہے اور اس وجہ سے کہ مردوں نے اپنے مال خرچ کئے ہیں۔ جو عورتیں نیک ہیں ,وہ اپنے شوہروں کا کہنا مانتی ہیں اور اللہ کے حکم کے موافق نیک عورتیں شوہر کی عدم موجودگی میں اپنے نفس اور شوہر کے مال کی حفاظت کرتی ہیں۔ یعنی اپنے نفس اور شوہر کے مال میں کسی قسم کی خیانت نہیں کرتی ہیں۔ (سورہ النساء ۴۳)اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے مرد کو عورت پر فوقیت وفضیلت دینے کی دو وجہیں ذکر فرمائی ہیں۔٭مرد وعورت و ساری کائنات کو پیدا کرنے والے اللہ تبارک وتعالیٰ نے مرد کو عورت پر فضیلت دی ہے۔٭مرد اپنے اور بیوی وبچوں کے تمام اخراجات برداشت کرتا ہے۔
اسی طرح دوسری آیت میں اللہ تبارک وتعالیٰ نے فرمایا: مردوں کو عورتوں پر فضیلت حاصل ہے۔ (سورہ البقرہ۔۸۲۲) 
اِن دِنوں مرد وعورت کے درمیان مساوات اور آزادیٔ نسواں کا بڑا شور ہے اور بعض ہمارے بھائی بھی اس پروپیگنڈے میں شریک ہوجاتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ مرو و عورت زندگی کے گاڑی کے دو پہیے ہیں، زندگی کا سفر دونوں کو ایک ساتھ طے کرنا ہے، اب زندگی کے سفر کو طے کرنے میں انتظام کی خاطر یہ لازمی بات ہے کہ دونوں میں سے کوئی ایک سفر کا ذمہ دار ہو تاکہ زندگی کا نظام صحیح چل سکے۔ لہٰذا تین راستے ہیں : (۱) دونوں کو ہی امیر بنایا جائے۔ (۲) عورت کو اس زندگی کے سفر کا امیر بنا یا جائے۔ (۳) مرد کو اس زندگی کے سفر کا امیر بنا یا جائے۔ پہلی شکل میں اختلاف کی صورت میں مسئلہ حل ہونے کے بجائے پیچیدہ سے پیچیدہ ہوتا جائے گا۔ دوسری شکل بھی ممکن نہیں ہے کیونکہ مردوعورت کو پیدا کرنے والے نے صنف نازک کو ایسی اوصاف سے متصف پیدا کیا ہے کہ وہ مرد پر حاکم بن کر زندگی نہیں گزار سکتی ہے۔ لہٰذا اب ایک ہی صورت بچی ،اور وہ یہ ہے کہ مرد اس زندگی کے سفر کا امیر بن کر رہے۔ مرد میں عادتاً وطبعاً عورت کی بہ نسبت فکروتدبر اور برداشت وتحمل کی قوت زیادہ ہوتی ہے، نیز انسانی خلقت ، فطرت، قوت اور صلاحیت کے لحاظ سے اور عقل کے ذریعہ انسان غوروخوض کرے تو یہی نظر آئے گا کہ اللہ تبارک وتعالیٰ نے جو قوت مرد کو عطا کی ہے ، بڑے بڑے کام کرنے کی جو صلاحیت مرد کو عطا فرمائی ہے، وہ عورت کو نہیں دی گئی۔ لہٰذا امارت اور سربراہی کا کام صحیح طور پر مرد ہی انجام دے سکتا ہے۔ اس مسئلہ کے لئے اپنی عقل سے فیصلہ کرنے کے بجائے اس ذات سے پوچھیں، جس نے اِن دَونوں کو پیدا کیا ہے۔ چنانچہ خالق کائنات نے قرآن کریم میں واضح الفاظ کے ساتھ اس مسئلہ کا حل پیش کردیا ہے:وَلِلرِّجَالِ علیہن درجۃَّ (سورہ البقرہ۔ ۸۲۲)۔الرِّجَالْ قَوَّامْونَ عَلَی النِّسَاء۔ (سورۃالنساء۴۳)
 ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے واضح الفاظ میں ذکر فرمادیا کہ مرد ہی زندگی کے سفر کا سربراہ رہے گا اور فیصلہ کرنے کا حق مرد ہی کو حاصل ہے، اگرچہ مرد کو چاہئے کہ عورت کو اپنے فیصلوں میں شامل کرے۔