تازہ ترین

دھچکا

20 نومبر 2016 (00 : 01 AM)   
(      )

زبیر احمد
 ’’شازیہ بیٹا چائے میں چینی ذرا کم ڈالنا، زیادہ ہو تو شُوگر بڑجاتی ہے ۔ ــ"وہ اپنی ساس کے لیے چائے بنا رہی تھی جب اُس کی ساس نے اپنے کمرے سے آوازدے کر کہا۔ ''جی امی ''اُس نے قدرے اُکتا کر کہا تھا۔ تنگ آچکی تھی وہ پرہیزی کھانے پکا پکا کر ۔ اب تو وہ اکثر سوچتی تھی پتا نہیں کب جان چھوٹے گی ساس صاحبہ سے ۔ اُس کی شادی کو پانچ سال ہو گئے تھے۔ سسر تو اُس کی شادی سے پہلے ہی وفات پا چکے تھے، چار ننندیں تھیں، جنکی شادیاں ہو چکی تھیں ۔ افتاب اکلوتے بیٹے تھے سو بیمار ماں کی عیادت کے لئے اُس کی کوئی نہ کوئی ننند ٹپکتی رہتی اور اب تو وہ چاہتی تھی کہ بیمار ساس سے جلد سے جلد نجات مل جائے۔ ''امی میں ذرا بازار جا رہی ہوں بچوں کی کچھ چیزیں لینی ہیں ، ابھی گیاراں بجے ہیں میں بچوں کے سکول سے آنے سے پہلے آجاوں گئی ‘‘۔ شازیہ نے چائے اپنی ساس کو تھما کر کہا اور جلدی سے تیار ہوئی۔ گاڑی اسُے سامنے سڑک سے مل گئی۔ اسے بس دونوں بچوں کے لئے کچھ چیزیں حریدنی تھیں اس لئے وہ بارہ بجے تک فارغ ہو گئی۔ وقت ابھی تھا اس لئے اُس نے سوچا امی سے بھی ملتی چلوں ۔ دروازہ خلاف توقع کھلا پایا۔ وہ دیکھتے ہی حیران ہو گئی۔۔۔۔۔۔! اندر داخل ہوئی ہی تھی کہ اندر روبینہ کے کمرے سے زور زور سے قہقوں کی آوازیں آرہی تھی ۔ ''ہاں ۔۔۔۔ پتا نہیں کہاں گئی ہے۔ روبینا رُوتے ہوئے اپنی سہیلی اقصیٰ سے بات کر رہی تھی ۔۔۔۔ تم بیٹھو، بس اقصا دعا کرؤ مجھے ساس سے جلد از جلد نجات مل جائے۔۔۔۔ تنگ آچکی ہو ں یار، مجھ سے نہیں ہوتی اُن کی خدمتیں  ــــ''شازیہ کو زور کا دھچکا لگا اُس کے چلتے قدم وہیں رُک گئے ، یہ کیسا جملہ تھا ،۔۔۔۔۔! ایک لمحے کے لئے تو اُس کی سمجھ میں کچھ نہ آیا اور پھر وہ تیزی سے مڑی اور گھر سے باہر نکل گئی ۔وہ یقینا اُس کی بھابھی کی دوست اقصیٰ تھی۔ جس سے اٰس کی بھابھی بات کر رہی تھی۔ اُس کے چھوٹے بھائی کی شادی کو ابھی سال بھی نہیں ہوا تھا اور  روبینا کے منہ سے اپنی ماں کے متعلق ایسی بات سُن کر وہ اندرتک کانپ گئی تھی ۔ تب اُس کے منہ سے بے اختیار نکلا تھا کہ اللہ میری ماں کو سلامت رکھنا ۔ وہ گاڑی میں سارے راستے بے آواز روتی آئی تھی۔ ''ـامی کھانا کھا لیا آپ نے ، کسی اور چیز کی ضرورت ہو تو مجھے آواز دے دیجیے گا ـــــ"گھر آکر وہ سیدھا اپنی ساس کے کمرے میں گئی تھی اور اب اپنی ساس سے بات کرتے ہوئے اُس کے لہجے میں اُکتاہٹ نہیں بلکہ بے حد احترام تھا ۔۔۔۔
         رابطہ :۔  نذدیک ڈگری کالج کنڈی کرناہ   9906819102